وفاقی حکومت نے 13 اگست 2026 کو خصوصی انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر بنانے اور سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات اور “ریگولیٹری گیلوٹین” کو تیز کرنے کی ذمّہ داری سونپ دی ہے، جسے وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif نے مکمل حکومتی ہم آہنگی کے ذریعے نافذ کرنے کو کہا۔
وفاقی حکومت نے مخصوص پلان کے تحت SIFC کو وہ ادارہ مقرر کیا ہے جو ریگولیٹری اصلاحات کی رفتار بڑھاتے ہوئے لائسنسنگ کے عمل کو آسان، غیر ضروری کاغذی کاروائی کم اور فرسودہ قواعد و ضوابط ختم کرے گا۔
حکومت کے مطابق یہ کوششیں کاروبار کرنے کی لاگت کم کریں گی، ریگولیٹری کارکردگی بہتر بنائیں گی اور پاکستان کی سرمایہ کاری کشش میں اضافہ کریں گی۔ اس اقدام کو نافذ کرنے کے لیے SIFC اپنے “whole-of-government” کوآرڈینیشن میکینزم کا استعمال کرے گا تاکہ مختلف وفاقی اور متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی سے رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔
اس ریگولیٹری فریم ورک کا آغاز بورڈ آف انویسٹمنٹ (BoI) نے کیا تھا، مگر اس کی عملی نفاذ میں بروقت پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمل درآمد میں تاخیر کی وجوہات میں ادارہ جاتی رکاوٹیں اور کوآرڈینیشن کے مسائل شامل تھے۔
سرکار نے واضح کیا ہے کہ SIFC کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا مرکزی محور کاروباری طریقہ کار کی سہل کاری، زائد کاغذی کارروائیوں کا خاتمہ اور بے سود یا تکراؤ والے قواعد کو ہٹانا ہوگا۔ ان اصلاحات کو عام کاروباری اداروں خصوصاً چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے سرکاری تقاضوں کو کم اور عمل کو سادہ بنانے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
حکومت کی توقع ہے کہ اس عمل سے نہ صرف کاروباری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی میں مضبوطی آئے گی اور ملکی معیشت کے لیے نئی غیر ملکی اور قومی سرمایہ کاری کے در کھلیں گے۔
SIFC کے تحت جاری اس مہم کی مزید تفصیلات، ہدف شدہ شیڈول اور مخصوص قوانین کی نشاندہی بعد میں متعلقہ سرکاری اعلانات میں فراہم کی جائے گی۔




