لمز کے تین طلبہ نے پیرس میں ’’لاریل برینڈ سٹورم 2026ء‘‘  کے عالمی فائنل میں پاکستان کی نمائندگی کی

LUMS کے تین طلبہ Aleena Khurram, Saad Tausif اور Dua Sarfaraz نے پیرس میں L’Oréal Brandstorm 2026 کے عالمی فائنل میں ٹاپ 45 میں جگہ بنا کر پاکستان کی نمائندگی کی، منصوبے میں L’Oréal Pakistan نے رہنمائی فراہم کی۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے طلبہ سعد توصیف، علینہ خرم اور دعا سرفراز پیرس میں منعقدہ L’Oréal Brandstorm 2026 کے بین الاقوامی فائنل میں ٹاپ 45 عالمی فائنلسٹس میں شامل ہو کر پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ مقابلے میں 60 سے زائد ممالک کے ساڑھے تین لاکھ سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا؛ پاکستانی ٹیم نے مہینے بھر کی تیاری اور لاریل پاکستان کی رہنمائی سے پہننے کے قابل wearable fragrance strip کا تصور پیش کیا۔

لمز کے تینوں شریکِ سفر نے کہا کہ اِس کامیابی کے لیے راتوں تک تیاری، متعدد پروٹوٹائپس اور قومی فائنلز میں فتح لازم تھی۔ ٹیم نے بتایا کہ مقابلے نے اُنہیں اپنا تصور پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

عدا سرفراز نے اپنے تجربے کو کچھ یوں بیان کیا کہ تصور کو دنیا کے سامنے پیش کرنا آسان نہیں تھا، لوگوں کو اُس کی منطق سمجھ آنی چاہئے تھی، راتوں کو کام کرتے ایک رات اُنہوں نے اپنا تصور علینہ کی بہن کے سامنے رکھا جس کی دلچسپی نے اُنہیں حوصلہ دیا اور پھر اپنے خاندان کے دیگر لوگوں اور دوستوں کے سامنے اُس تصور کو پیش کیا گیا جنہوں نے اُسے آسانی سے سمجھ لیا کہ لوگ خوشبو کے لیے پیسے کیوں خرچ کریں، ہمہیں لگا کہ ہم لوگوں کے خوشبو کے تصور کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

ابتدائی پروٹوٹائپس کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر یہ کہ پہننے والی پٹی کو سستے بینڈیج کی بجائے ایک حقیقی لگژری ایکسیسریز کیسے محسوس کروایا جائے۔ ٹیم نے کہا کہ لگژری حقیقی پراڈکٹ نہیں بلکہ دراصل یہ ایسا کہ کہ اُس سے کوئی کیا محسوس کرتا ہے۔

قومی فائنلز میں سب سے کم عمر ٹیم کے طور پر کامیابی کے بعد اگلے ہفتوں میں شدت سے تیاری شروع ہوئی۔ ٹیم نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زیادہ تر عید کی تقریبات ترک کر دیں اور بین الاقوامی اسٹیج پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے سخت مشقیں کیں۔

لاریل پاکستان نے مہینے پر محیط گائیڈنس اور مینٹورشپ فراہم کی، اسٹریٹیجک رہنمائی دی تاکہ تصور کو دنیا کے بڑے پرفیوم برانڈز یا آئکونک لگژری ہاؤسز کے لیے اِسے موافق بنایا جا سکے۔ ٹیم کو نامور لوگوں اور برانڈز کے نمائندوں سےسٹریٹیجی سیشنوں کا موقع بھی ملا۔

معروف برانڈز کی ورکشاپوں کے علاوہ لاریل کی بیوٹی‑ٹیک اور آے آئی جدیدیت کے عملی مظاہرے بھی اِس میں شامل تھےجبکہ اُنہوں نے مشہور برانڈ کے عالمی سینئر لیڈرز کے سامنے فائنل پِچ پیش کی۔

دعا نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ پہلا قدم اٹھائو بس یہ اتنا ہی مشکل اور آسان ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی یہ کامیابی نوجوان ٹیلنٹ کے عالمی سٹیج پر مقام بنانے کی صلاحیت کی عکاس ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531