ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات معطل کر دیں، اپٹما

اے پی ٹی ایم اے نے کہا ہے کہ جاری ٹرانسپورٹرز ہڑتال کی وجہ سے روڈ فریٹ معطل ہونے سے ٹیکسٹائل برآمدات تاخیر کا شکار اور خام مال و ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

چیئرمین اپٹما کامران ارشد کا کہنا تھا کہ جاری قومی سطح کی ٹرانسپورٹرز ہڑتال روڈ فریٹ کی معطلی کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات برآمدات کو شدید متاثر کر رہی ہے، شپمنٹس تاخیر کا شکار ہیں اور خام مال و ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے خبردار کیا ہے کہ جاری ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے ملک کی ٹیکسٹائل برآمدات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اپٹما کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ فریٹ کی نقل و حمل کی طویل معطلی نے ٹیکسٹائل اور ملبوسات سیکٹر کی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی ترسیل کے شیڈیول میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملز خام مال اور ایندھن کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں جو روڈ ٹرانسپورٹ میں رکاوٹوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

اپٹما نے یاد دلایا کہ ٹیکسٹائل پاکستان کی کل برآمدات کا 60 فیصد سے زائد حصہ بنتا ہے، اس لیے یہ شعبہ زرمبادلہ، صنعتی پیداوار اور روزگار کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ موجودہ دور میں توانائی کے بلند اخراجات، لیکوئڈیٹی کے مسائل اور عالمی مقابلہ بازی کے دباؤ میں مزید سپلائی چین کی خلل برداشت نہیں کی جا سکتی۔

بیان میں وفاقی حکومت، تمام متعلقہ فریقین اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی گئی ہے کہ معاملہ گفت و شنید کے ذریعے حل کریں۔ اپٹما نے وزارتِ بحری امور، پورٹ حکام اور شپنگ لائنز سے بھی کہا ہے کہ جب تک روایتی نقل و حمل بحال نہیں ہوتی تب تک برآمدی کارگو کی فوری کلیئرنس میں سہولت فراہم کی جائے۔

اپٹما نے زور دیا کہ برآمدات، معاشی سرگرمی اور روزگار کے تحفظ کے لیے فوراً سپلائی چین کی بحالی ضروری ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527