کراچی میں کسٹمز نے 25,430 کلوگرام سگریٹ خام مال ضبط کر لیا

پاکستان کسٹمز نے کراچی کے کے آئی سی ٹی پر جبل علی سے آنے والے کنٹینر سے 25,430 کلوگرام سیلولوز ایسیٹیٹ ٹاؤ ضبط کیا؛ مال کی قیمت تقریباً 4 کروڑ اور واجبہ محصولات تقریباً 30.8 کروڑ روپے بتائی گئی۔

پاکستان کسٹمز نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) پر جبل علی، متحدہ عرب امارات سے آنے والے ایک کنٹینر سے 25,430 کلوگرام سیلولوز ایسیٹیٹ ٹاؤ ضبط کر لیا، جو مبینہ طور پر ‘پلاسٹک ریزن’ کے طور پر غلط طور پر دستاویز کیا گیا تھا؛ ایف بی آر دونوں مالیت اور واجبہ محصولات کی بلند رقم کی تحقیقات کر رہا ہے۔

پاکستان کسٹمز نے بتایا ہے کہ ضبط کیا گیا کنٹینر کراچی کے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) پر اسکیننگ کے دوران مشکوک قرار پانے کے بعد 16 اگست کو بلاک کیا گیا اور تفصیلی جسمانی معائنے کے حکم نامے جاری کیے گئے۔

کنٹینر جبل علی بندرگاہ، متحدہ عرب امارات سے درآمد کیا گیا تھا اور کاغذات میں اسے ‘پلاسٹک ریزن’ کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ بظاہر مال کو کے آئی سی ٹی سے آگے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ای پی زیڈ) کی طرف بھیجنے کے لیے دستاویزات تیار تھیں، مگر الیکٹرانک بل آف لینڈنگ میں رسید کنندہ کا پتہ ای پی زیڈ رِسالپور دکھایا گیا، جو دستاویزات میں تضاد کا باعث بنا۔

تفصیلی جسمانی معائنہ کرنے پر حکام نے محسوس کیا کہ کنٹینر میں موجود اشیاء دستاویز کیے گئے ‘پلاسٹک ریزن’ سے میل نہیں کھاتیں، جس پر نمونے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھیجے گئے۔ لیبارٹری رپورٹ جو 19 اگست کو جاری ہوئی میں تصدیق کی گئی کہ نمونوں میں سیلولوز ایسیٹیٹ ٹاؤ موجود ہے، جو سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک بلند محصول والا خام مال ہے۔

ضبط شدہ مال کا وزن تقریباً 25.4 ٹن (25,430 کلوگرام) تھا اور اس کی درجہ بندی کے لحاظ سے بنیادی قیمت تقریباً 4 کروڑ روپے (40 ملین روپے) تخمینہ لگائی گئی ہے۔ تاہم متعلقہ محصولات و محصولاتِ امپورٹ تقریباً 30.8 کروڑ روپے (308 ملین روپے) کے قریب بنتی تھیں، جو مبینہ غلط دستاویز کاری سے ریاستی محصول کے بڑے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مال کو کس طرح غلط درجہ بندی کے ساتھ درآمد کیا گیا اور اس میں کس کا کردار تھا۔ کسٹمز افسران نے کہا ہے کہ اس قسم کی مبینہ غلط دستاویزی کارروائیاں اعلیٰ محصول والے درآمدی اشیاء کے ذریعے سرکاری محصول میں حرج کا باعث بنتی ہیں۔

یہ کارروائی درآمدی کنٹرول اور تجارت کے دوران درست درجہ بندی اور شفافیت کو یقینی بنانے کی حکومت کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519