رپورٹس کے مطابق صوبہ سندھ کی کئی سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے درخواستیں دینا شروع کر دی ہیں، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر نسرات شاہ کو توسیع دینے کے تنازع نے سر اٹھایا۔
سندھ میں سرکاری یونیورسٹیوں کے چند وائس چانسلرز نے مبینہ طور پر اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے سمریاں وزیراعلیٰ سندھ کے دفتر کو بھیجنی شروع کر دی ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب لاڑکانہ کی شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نسرات شاہ — جو کہ سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ہیں — کو توسیع دینے کے معاملے نے تنازع کھڑا کر دیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر نسرات شاہ کی پہلی چار سالہ مدت جس کا خاتمہ 1 جنوری 2027 کو طے ہے، کے اختتام سے قبل ہی ان کی توسیع کے لیے سمری وزیراعلیٰ سندھ کے پاس پہنچ گئی اور مبینہ طور پر منظوری بھی جاری کی گئی۔ توسیع کے وقت اور طریقۂ کار نے دیگر یونیورسٹی سربراہان میں بحث اور تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ متعدد یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی مدتِ ملازمت بھی آئندہ مہینوں میں ختم ہونے والی ہے۔
سرکاری محکمے کی کنٹرولنگ اتھارٹی کے طور پر وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے اداروں کی قیادت کی منظوری ایک سنجیدہ سیاسی و تعلیمی معاملہ بن گئی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر امجد سراج میمن کی توسیع منظور کی، جب کہ ڈاکٹر خالد عراقی اور ڈاکٹر فاروق حسن کے لیے منظور شدہ سمریاں مسترد کرنے کی اطلاعات ہیں۔
آنے والے مہینوں میں کئی اور وائس چانسلرز کی مدتِ ملازمت ختم ہونے والی ہے، جن میں لیاقت یونیورسٹی کے ڈاکٹر اکرام الدین اعجاز، آرور یونیورسٹی کے ڈاکٹر زاہد حسین کھانڈ، شہید اللہ بخش یونیورسٹی کی ڈاکٹر اربیلا بھٹو، آئی بی اے سکھر کے ڈاکٹر آصف شیخ اور مہران یونیورسٹی کے ڈاکٹر طاہہ حسین شامل ہیں۔ اسی طرح نسرات بھٹو ویمن یونیورسٹی کی تہمیینہ ننگراج اور داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی ڈاکٹر ثمریں حسین کی مدتیں بھی جلد ختم ہوں گی۔
مقامی تعلیمی حلقوں میں یہ معاملہ سیاسی مداخلت اور شفافیت کے سوالات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور آئندہ فیصلوں پر حکومتِ سندھ کی توجہ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔




