پاکستانی کرکٹر محسن خان نے 1983 میں انڈین اداکارہ رینا رائے سے شادی کی؛ دونوں کی ملاقاتیں لندن اور ممبئی میں ہوئیں، محسن نے بالی وڈ میں 13 فلموں میں کام کیا، بعد ازاں 90 کی دہائی کے آغاز میں جو تعلقات ختم ہوئے۔
محسن خان کی رومانوی اور فلمی کہانی 1983 کے آس پاس شروع ہوئی جب ان کی شادی رینا رائے سے ہوئی—وہ دور تھا جب ایک پاکستانی کرکٹر کا کسی بھارتی اداکارہ سے نکاح اپنی نوعیت کا نادر واقعہ سمجھا جاتا تھا۔ ملاقاتیں پہلے لندن میں ہوئیں، جہاں محسن انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کھیل رہے تھے اور رینا اپنی بہن کے ساتھ موجود تھیں۔ بعد ازاں ممبئی میں اداکار و ہدایت کار جے پی دتہ نے محسن کو فلم میں کردار کی پیشکش کی اور یہی پیشکش اُن کے بالی وڈ کیریئر کا آغاز بنی۔
محسن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ شادی سے پہلے وہ رینا کی فلمیں دیکھتے نہیں تھے اور ان کی شادی کا فیصلہ خوبصورتی کی بجائے عادت اور اچھے رویے کی بنیاد پر کیا۔ جے پی دتہ نے محسن کو اداکاری میں راہنمائی دی اور انھیں کرکٹ کی زبان میں مناظر سمجھا کر ایک پولیس افسر کا کردار ادا کرنے میں مدد دی۔ ان کی پہلی نمایاں بالی وڈ فلم ‘بٹوارہ’ تھی جس میں دھرمیندر، ونود کھنہ اور شمی کپور جیسے بڑے نام تھے؛ اسی فلم میں ان کی کارکردگی پر وہ فلم فیئر ایوارڈ کے زمرے میں نامزد بھی ہوئے۔
محسن نے مجموعی طور پر بالی وڈ کی 13 فلموں میں کام کیا، جن میں 1997 میں ریلیز ہونے والی ‘مہانتا’ ان کی آخری بالی وڈ فلم تھی۔ پاکستان میں ان کی آخری فلم ‘سالا بگڑا جائے’ 1999 میں ریلیز ہوئی۔ محسن نے چند پاکستانی فلموں میں بھی اداکاری کی جن میں ‘راز’، ‘پیاسا ساون’، ‘ہاتھی میرے ساتھی’، ‘جنت’ اور ‘انسانیت’ شامل ہیں، البتہ زیادہ تر فلمیں باکس آفس پر کامیاب نہ رہ سکیں۔
شادی کے بعد رینا رائے نے فلمی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کی اور پاکستان میں قیام کیا، مگر 90 کی دہائی کے آغاز میں دونوں کے راستے جدا ہو گئے اور طلاق کی خبر نے بھی میڈیا کی سرخیاں بنیں۔ طلاق کے بعد رینا بھارت واپس چلی گئیں اور دوبارہ فلموں اور ٹی وی پروگراموں میں نمودار ہوئیں۔ دونوں کی ایک بیٹی ہے جس کا نام ابتدا میں ‘جنت’ رکھا گیا تھا جبکہ بعد میں اسے ‘صنم خان’ کہا جانے لگا؛ ابتدائی طور پر بچی والد کے پاس تھی مگر بعد میں والدہ کے پاس چلی گئی۔
محسن خان کے بیک گراؤنڈ میں تعلیمی اور نظم و ضبط کی مضبوطیاں تھیں—اُن کے والد پاکستان نیوی میں افسر تھے اور والدہ ٹیچر و وائس پرنسپل تھیں—جنھوں نے ان کی شخصیت کو نکھارا۔




