سٹیٹ بینک نے نئی کرنسی نوٹوں میں تاخیر کی اصل وجہ بتا دی

اسٹیٹ بینک نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ نئی کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن دو سال سے زیرِ تکمیل ہیں؛ وزارتِ خزانہ ایک سال میں جواب نہیں دے سکی اور کابینہ کمیٹی انہیں دوبارہ دیکھ رہی ہے۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس کو بریفنگ میں سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بتایا کہ نئی کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن دو سال سے تیار کیے جا رہے ہیں مگر وزارتِ خزانہ کی جانب ایک سال میں کوئی جواب نہ ملنے اور فدرالی کابینہ کمیٹی کے جائزے کی وجہ سے اجرا تاخیر کا شکار ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس کو بتایا ہے کہ نئی کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن پر کام دو سال سے جاری ہے مگر حتمی منظوری تاحال مکمل نہیں ہوئی۔

ایس بی پی کے حکام نے کہا کہ تجویز کردہ ڈیزائن تقریباً ایک سال قبل وزارتِ خزانہ کو بھیجے گئے تھے، مگر وزارتِ خزانہ کی جانب سے اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

حکام نے بتایا کہ نئے نوٹوں میں حفاظتی خصوصیات میں بہتری کی گئی ہے، تاہم یہ ڈیزائن فی الحال ایک فدرالی کابینہ کمیٹی کے زیرِ جائزہ ہیں۔ کابینہ نے پہلے ہی ڈیزائن میں تبدیلیاں کیں، اور ایک ذیلی کمیٹی اس وقت مزید جائزہ کر رہی ہے۔ ایس بی پی نے انتباہ کیا کہ اگر مزید تبدیلیاں کی گئیں تو ڈیزائن کو دوبارہ منظوری کے عمل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مندوی والا نے اس عمل کی سست رفتاری پر سخت نکتہ اٹھایا اور کہا کہ کام اتنی سست رفتاری سے ہو رہا ہے کہ ممکن ہے سینیٹ کمیٹی کی مدت ختم ہونے تک نئے نوٹ جاری نہ ہو سکیں۔ انہوں نے مشیر اور ڈیزائن کمپنی کے انتخاب کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے اور اس کی شفافیت پر تحفظات ظاہر کیے۔

ایس بی پی کے بقول اس خبر میں دکھائے گئے نوٹ محض تصویری مثالیں ہیں؛ حتمی اور سرکاری ڈیزائن ایس بی پی فائنل ہونے پر شیئر کرے گا۔

کمیٹی میں ہونے والی سماعت نے مرکزی انتظامی اداروں کے درمیان رابطے اور منظوری کے عمل میں تاخیر کی نشان دہی کی ہے، جبکہ حکام نے کہا ہے کہ حفاظتی خصوصیات کے جامع نفاذ کے لیے منظوری کی ضرورت ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531