بینک اس سال بیرونِ ملک بینکوں کو ترسیلات وصولی فیس کے طور پر 256 ملین ڈالر ادا کریں گے

حکومت کی مالی معاونت ختم ہونے کے باعث پاکستانی بینک اس مالی سال میں بیرونِ ملک بینکوں کو کارکنوں کی ترسیلات وصولی فیس کے طور پر 256 ملین ڈالر ادا کریں گے، جس سے اخراجات بھیجنے والوں پر منتقل ہو سکتے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا ہے کہ حکومت نے جولائی 2026 سے ترسیلات سے متعلق مالی معاونت ختم کر دی ہے، نتیجتاً پاکستانی بینک اس جاری مالی سال میں بیرونِ ملک بینکوں کو کارکنوں کی ترسیلات کی وصولی چارجز کے طور پر 256 ملین ڈالر خود برداشت کریں گے۔

اسلام آباد — سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بروز منگل بتایا گیا کہ حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی ترسیلاتِ زر سے متعلق مالی اسکیم بند کیے جانے کے بعد پاکستانی بینک اس مالی سال میں بیرونِ ملک بینکوں کو بطور وصولی چارجز 256 ملین ڈالر ادا کریں گے۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مقامی بینک ترسیلات وصول کرنے کے لیے بیرونی بینکوں کو فیس ادا کرتے ہیں اور تاریخی طور پر بین الاقوامی بینکنگ سروسز کے عوض سالانہ تقریباً 800 ملین ڈالر خرچ ہوتے رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2025 میں ترسیلات سے متعلق مالی معاونت کے طور پر 124 ارب روپے اور اگلے مالی سال میں 72 ارب روپے فراہم کیے تھے، مگر یہ اسکیم جولائی 2026 سے ختم کر دی گئی اور موجودہ مالی سال کے لیے اس کے لیے فنڈ مختص نہیں کیے گئے۔

ڈپٹی گورنر نے خبردار کیا کہ چونکہ سرکاری امداد بند ہو گئی ہے، اس لیے اب بینکوں پر یہ چارجز خود اٹھنے پڑیں گے اور اگر بینک یہ اخراجات برداشت نہ کریں تو آخرکار یہ فیس ترسیلات بھیجنے والوں پر منتقل ہو سکتی ہے۔

کمیٹی نے نوٹس لیا کہ پاکستان کے لیے کارکنوں کی بھیجی ہوئی ترسیلات زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہیں اور اس شعبے میں اضافی لاگت کے اثرات معیشت اور خاندانوں کی آمدنی پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس جاری مالی سال میں بینکوں سے متوقع ادائیگیوں کا تخمینہ تقریباً 256 ملین ڈالر ہے، جو براہِ راست بیرونی بینکوں کو خدمات کے عوض ادا کیے جائیں گے۔

کمیٹی نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ اس معاملے کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لے کر مناسب تجاویز پیش کریں تاکہ ترسیلات کا بہاؤ متاثر نہ ہو اور عام لوگوں پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519