امریکہ میں مقیم پاکستانی ملکیت کی ٹیک کمپنی موبِز نے 27 اگست 2026 کو کراچی کے نیشنل ایروسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (این اے ایس ٹی پی) میں اپنا علاقائی دفتر کھول دیا، جسے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے سراہا۔
موبِز، جو سِلِکن ویلی میں قائم پاکستانی ملکیت کی ٹیک کمپنی ہے، کلاؤڈ، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سائبر سیکیورٹی کی خدمات مختلف ممالک میں فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے کراچی میں علاقائی دفتر کے قیام کو مقامی اور مرکزی سطح پر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے موبِز کے دفتر کے افتتاح کو ملک کے آئی ٹی ہنر اور صلاحیتوں پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اعتماد کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان عالمی انفارمیشن ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور عالمی ٹیک کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
سدھو نے نشاندہی کی کہ ایس ای سی پی کاروباری سہولت کاری کے لیے شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور ریگولیٹری اصلاحات پر کام کر رہا ہے تاکہ مقامی اور بین الاقوامی ادارے پاکستان میں آسانی سے سرمایہ کاری کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے اپنانے سے کاروباری لاگت اور عملدرآمد کا وقت کم ہو گا جبکہ شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
موبِز کے کراچی دفتر کے قیام سے مقامی ٹیک ایکو سسٹم کو تقویت ملنے کی توقع ہے، خاص طور پر جب نیشنل ایروسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (این اے ایس ٹی پی) جیسی سہولیات میں دفتر کھولا گیا ہے جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا ماحول فراہم کرتی ہیں۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین نے موبِز گلوبل کو کراچی دفتر کے افتتاح پر مبارکباد دی اور کمپنی کی ملک میں مزید توسیع کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ موبِز کے اس اقدام کو تجزیہ نگار مقامی آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے رجحان کی جاری مضبوطی کے ضمن میں دیکھ رہے ہیں۔



