یورپ میں گرمی کی لہروں کے دوران کم از کم 35,000 معمول سے زائد اموات

رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ کے عبوری اعداد کے مطابق اس موسم گرما کی چار گرمی کی لہروں میں یورپ میں کم از کم 35,000 اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں؛ جرمنی، فرانس اور اسپین سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) کے مطابق اس موسم گرما میں یورپ میں چار گرمی کی لہروں کے دوران کم از کم 35,000 معمول سے زائد اموات ریکارڈ ہوئیں؛ جرمنی، فرانس اور اسپین کا حصہ 25,000 سے زائد ہے اور حتمی تعداد اگست کا مکمل ڈیٹا آتے ہی بڑھ سکتی ہے۔

جرمنی کی طبی اعداد و شمار کی ادارے رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) نے اعلان کیا ہے کہ اس موسم گرما میں یورپ میں چار الگ الگ گرمی کی لہروں کے نتیجے میں کم از کم 35,000 اضافی اموات درج ہوئی ہیں۔ عبوری اعداد و شمار کے مطابق جرمنی، فرانس اور اسپین میں مل کر 25,000 سے زائد اموات ہوئی ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اگست کا بقیہ ڈیٹا شامل کیا جائے گا تو حتمی مجموعی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جرمنی نے سب سے زیادہ جانی نقصان ریکارڈ کیا، جہاں 6 اپریل سے 9 اگست 2026 کے درمیان اندازاً 14,000 گرمی سے متعلقہ اموات ہوئیں۔ آر کے آئی نے خاص طور پر 22 جون تا 28 جون کے ہفتے کے دوران 9,600 اموات درج ہونے کی نشاندہی کی، جو 2008 کے بعد یورپی اموات کے ریکارڈ میں محض جولائی 2022 جیسے غیر معمولی ہفتے کے ہم رتبہ ہے۔

عام طور پر آر کے آئی کے مطابق ایک عام موسم گرما میں جرمنی میں معمول سے زائد اموات کی تعداد 2,000 سے کم رہتی ہے؛ اس سال کا ابتدائی شمار پہلے کے ریکارڈ 8,900 اموات (2018) سے گذر چکا ہے۔

موسمیاتی ماہرین نے بتایا ہے کہ مغربی یورپ میں غیر معمولی شدت کی گرمی اور کئی سو موسمی اسٹیشنز پر درجہ حرارت کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹنے کا تعلق انسانی عمل سے پیدا شدہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے جوڑا جا رہا ہے۔ فرانس نے بھی اپنے قومی اوسط درجہ حرارت کا اب تک کا ریکارڈی ترین روز درج کیا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531