حوثی کسی بھی امریکی یا اسرائیلی بحری جہاز پر حملہ نہیں کریں گے

حوثیوں کا امریکا کو پیغام؛ سعودی جہاز نشانے پر (مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے حوثی گروپ نے مبینہ طور پر عمان میں امریکی حکام سے ہونے والی خفیہ ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ و

حوثیوں کا امریکا کو پیغام؛ سعودی جہاز نشانے پر

(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن کے حوثی گروپ نے مبینہ طور پر عمان میں امریکی حکام سے ہونے والی خفیہ ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ امریکی، اسرائیلی یا عمومی تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنائے گا، تاہم سعودی جہازوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھے گا۔ رائٹرز کے مطابق یہ ملاقات گزشتہ ہفتے مسقط میں امریکی سفارت خانے میں ہوئی اور عمان نے اس میں ثالثی کی۔

امریکی حکام نے ملاقات کی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ یہ مبینہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر اپنی پیش قدمی بڑھائی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی فضائی حملوں اور حوثی ڈرون و میزائل کارروائیوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت کا اہم پہلو باب المندب ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے اور عالمی تجارت، ایشیا-یورپ بحری راستوں اور سعودی تیل کی ترسیل کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔ ہرمز میں جاری بحران کے باعث سعودی عرب کے لیے بحیرۂ احمر کی راہداری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

باب المندب میں کسی بھی حملے یا ناکہ بندی سے جہازوں کی بیمہ لاگت، مال برداری کے اخراجات اور عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ حوثیوں کی مبینہ یقین دہانی امریکی جہاز رانی کو وقتی تحفظ دینے کی کوشش ہوسکتی ہے، مگر سعودی جہازوں کو استثنا دینا بحران کو ختم کرنے کے بجائے اس کا رخ ایک مخصوص ملک کی طرف موڑ سکتا ہے۔ اس سے ریاض پر دفاعی دباؤ، امریکی-سعودی رابطوں میں پیچیدگی اور خطے میں وسیع تر فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اس ملاقات کو حوثیوں کی مستقل پالیسی یا کسی حتمی معاہدے کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال دستیاب معلومات ذرائع سے منسوب ہیں اور زمینی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 242