اراغچی کا بیجنگ میں بڑا سفارتی پیغام؛ ژی جن پنگ کے چار نکاتی امن فارمولے کی حمایت
ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی کا چین کا تازہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، امریکا اور خطے کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے نئی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اراغچی نے بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امن اور علاقائی سلامتی کے لیے صدر ژی جن پنگ کے چار نکاتی فارمولے کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور اسے خطے کے مستقبل کے سٹریٹجک توازن کے لیے اہم قرار دیا۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق اراغچی 16 ستمبر کو بیجنگ پہنچے، جہاں وانگ یی نے ان سے مذاکرات کیے۔ چین نے ایران اور امریکا پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، جون میں طے پانے والے عبوری امن انتظام کی طرف واپس جائیں اور بامعنی مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ بیجنگ نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی توانائی و سپلائی چین کے تحفظ پر زور دیا۔
یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ چین خود کو صرف ایران کا شراکت دار نہیں بلکہ خطے میں سفارتی ثالث کے طور پر بھی پیش کر رہا ہے۔ حالیہ BRICS اجلاس میں ژی جن پنگ نے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی میں کردار ادا کریں۔
اراغچی کی جانب سے چینی فارمولے کی حمایت ایران کی اس کوشش کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی بحران کا حل صرف عسکری طاقت کے بجائے سفارت کاری، علاقائی سلامتی اور خودمختاری کے اصولوں کے تحت تلاش کیا جائے۔




