سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف پاکستان، مصر، فرانس اور برطانیہ سے فضائی دفاع میں مدد مانگ لی۔

سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث فضائی دفاعی وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ریاض نے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے فضائی دفاعی مدد طلب کی ہے۔

سعودی فضائی دفاع پر دباؤ؛ حوثیوں کی پیش قدمی اور ایران کی پشت پناہی

سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث فضائی دفاعی وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق (مانیٹرنگ ڈیسک) ریاض نے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سے فضائی دفاعی مدد طلب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انٹرسیپٹرز کے ذخائر ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران استعمال ہونے سے سعودی عرب کے لیے دستیابی محدود ہوئی ہے۔ تاہم، ان ممالک کی جانب سے فوجی مدد کا کوئی حتمی وعدہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بحران صرف فضائی دفاع تک محدود نہیں۔ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب پیش قدمی کی ہے، جس سے سعودی عرب کے تیل کی ترسیل اور عالمی جہاز رانی کو خطرات لاحق ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی نے سعودی حمایت یافتہ یمنی قوتوں کو پیچھے دھکیلا اور ریاض کے لیے دفاعی و سفارتی مشکلات بڑھا دیں۔

حوثیوں کی پشت پناہی کے پیچھے کون؟

حوثیوں کے سب سے اہم بیرونی حمایتی ایران کو سمجھا جاتا ہے۔ امریکی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے مطابق ایران نے حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور انٹیلی جنس معاونت فراہم کی ہے۔ اس مدد سے حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں اضافہ ہوا، اگرچہ ان کی طاقت صرف بیرونی امداد کا نتیجہ نہیں۔

حوثی تحریک کی مقامی جڑیں بھی اہم ہیں: یہ یمن کے اندرونی سیاسی و مسلح تنازعے سے ابھری، شمالی علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کیا اور برسوں کی جنگ کے دوران اپنی تنظیمی و عسکری صلاحیتیں بڑھائیں۔ یمن میں مخالف دھڑوں کی تقسیم نے بھی حوثیوں کو فائدہ پہنچایا۔ اگر حملے جاری رہے تو سعودی عرب کو انٹرسیپٹرز کی فراہمی، اہم تنصیبات کے تحفظ اور اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ باب المندب اور بحیرۂ احمر میں عدم تحفظ سے جہازوں کے بیمہ اور مال برداری کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ رہے گا۔ مصر اور عمان کی سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے کا راستہ فراہم کرسکتی ہیں، مگر فوری فوجی حل یا مستقل جنگ بندی یقینی نہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 238