کشمیر کی دستکارہ نے جھیل کے نباتاتی فضلے سے نیا فن ’گراس ماشی‘ ایجاد کر لیا

سرینگر کی سمرن ارشاد نے خوشحال سر جھیل کے آبی پودوں اور گھاس پھوس سے پیپر ماشی کا متبادل ’گراس ماشی‘ تیار کیا؛ اس سے صفائی، روزگار اور مقامی صنعت کو فروغ ملنے کی امید ہے۔

سرینگر کے علاقے زونی مر کی 36 سالہ سمرن ارشاد نے خوشحال سر جھیل کے تیرتے پودوں اور گھاس پھوس کو پیپر ماشی کی متبادل خام مال بنا کر ’گراس ماشی‘ کا تجربہ کامیاب کر لیا ہے، جس سے انہیں مقامی اور بیرونی آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔

سرینگر کے محلے زونی مر میں رہنے والی 36 سالہ سمرن ارشاد نے بچپن سے پیپر ماشی اور پیپر کوٹ کے کام میں مہارت حاصل کی۔ دو سال قبل اپنے کارخانے میں تجربات کے دوران انھیں خیال آیا کہ روایتی کاغذ کے علاوہ سستا یا مفت دستیاب خام مال استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی طور پر انھوں نے دھان کے بھوسے اور مختلف گھاسوں پر تجربات کیے، مگر خاطر خواہ نتائج نہ ملے۔

ایک روز خوشحال سر جھیل کے کنارے چہل قدمی کرتے ہوئے انھوں نے جھیل کی سطح پر تیرتے آبی پودوں، کنول کے پتوں اور خود رو گھاس کو پیپر ماشی کے لیے موزوں پایا۔ ان عناصر کو ملا کر پیسٹ بنانے اور سانچوں میں خشک کرنے کے بعد حاصل شدہ مصنوعات مستحکم ثابت ہوئیں۔ سمرن نے اس نئے طریقے کو ’’گراس ماشی‘‘ کا نام دیا۔

سمرن بتاتی ہیں کہ گراس ماشی سے بنے ہوئے گلدان، کرسمس بالز اور دیگر آرائشی سامان کے اتنے آرڈرز آ رہے ہیں کہ وہ دن رات کام کرتی ہیں۔ اُن کے بقول: ’یہ جھیل کچرے کے کنویں میں تبدیل ہو گئی تھی۔ یہ خود رو پودے ہر دو ہفتے بعد اُگ آتے ہیں۔ پیپر ماشی کے لیے کاغذ خریدنا پڑتا ہے، لیکن گراس ماشی کے لیے خام مال مفت دستیاب ہے۔ میرے نزدیک یہ کچرا نہیں بلکہ قدرت کا خزانہ ہے۔‘

گراس ماشی کی تیاری کا عمل محنت طلب اور وقت طلب ہے۔ سمرن صبح اپنے بیٹے کو سکول بھیجنے کے بعد جھیل سے نباتاتی مادہ جمع کرتی ہیں، اسے کئی گھنٹے سکھاتی ہیں، پھر روایتی اوکھلی میں ہاتھ سے کوٹتی ہیں اور چاول کے آٹے سے تیار پیسٹ ملاتی ہیں۔ آمیزہ سانچوں پر ڈال کر خشک ہونے کے بعد مختلف حصوں کو جوڑ کر شکل دی جاتی ہے۔ آخری مراحل میں گھاس پھوس سے بنے رنگوں سے باریک گھسائی اور نقش و نگار کیے جاتے ہیں۔

سمرن کہتی ہیں کہ مشینری دستیاب ہونے پر ان کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، مگر فی الحال وہ روایتی اوکھلی اور ہاتھ پر انحصار کرتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ حکومت اور مقامی ادارے اس فن کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ جھیلوں کی صفائی سمیت ہنر سیکھنے والی خواتین کو روزگار اور ماحول کی حفاظت کے مواقع ملیں۔

اُن کا ارادہ ہے کہ ایک ورکشاپ قائم کرکے اپنی سہولت کے مطابق مقامی خواتین کو تربیت دیں اور مستقبل میں مصنوعات آن لائن فروخت کریں، تاکہ درمیانی خریداروں کے بجائے اصل کاری گر کو مناسب معاوضہ ملے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1519