کراچی کی خاتون حاملہ تھی یا نہیں، ہسپتال اور پولیس اُلجھن کا شکار

کراچی کے ہمدرد ہسپتال میں 27 اگست کو سی سیکشن کے دوران ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں؛ پولیس تفتیش میں خاتون نے اعتراف کیا کہ انھوں نے سماجی دباؤ میں غلط بیانی کی۔

ناظم آباد کراچی کے ہمدرد ہسپتال میں اُس وقت تنازعہ کھڑا ہو گیا جب ڈاکٹروں کے مطابق اُن پر سی سیکشن کے دوران انکشاف ہوا کہ جس کا آپریشن کیا جا رہا ہے وہ خاتون حاملہ ہی نہیں جبکہ خاتون کے اہؒ، خانہ کے پاس اُس کے حاملہ ہونے کی الٹرا سائونڈ رپورٹیں موجود ہیں۔

ڈاکٹروں کے اِس انکشاف پر کہ خاتون کے رحم میں بچہ موجود نہیں تھا، اہلِ خانہ نے ہسپتال پر بچے کو غائب کرنے کا الزام لگایا جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات کے دوران خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ کبھی حاملہ ہی نہیں تھی۔ اہل خانہ کے مطابق اُن کے پاس موجود الٹراساؤنڈ رپورٹ میں خاتون 38 ہفتے کا حمل درج تھا، اِسی بنیاد پر تو ہسپتال میں سی سیکشن کیا گیا۔

اہل خانہ نے ہسپتال میں مشتعل ہو کر ہنگامہ کیا جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش شروع کر دی۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون نے حمل کے بارے میں غلط بیانی کی، اُس کی شادی کو تین سال گزر چکے تھے اور ماں نہ بننے کی وجہ سے اُس پر شدید سماجی دباؤ تھا۔ پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خاتون کا فوری طبی معائنہ اور ٹیسٹ کرائے گئے تو رپورٹوں سے معلوم ہوا کہ وہ کبھی حاملہ ہوئی ہی نہیں۔ خاتون کے تمام ٹیسٹ اور شواہد مزید جانچ کے لیے آغا خان ہسپتال بھی بھیجے گئے جس سے یہی نتیجہ اخذ کیا گیا کہ خاتون حاملہ نہیں تھی بلکہ اُس نے غلط بیانی سے کام لیا۔

ہمدرد ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق خاتون نے ایک الٹراساؤنڈ رپورٹ پیش کی جس کی بنیاد پر ڈیوٹی ڈاکٹر نے طبی معائنہ اور آپریشن سے متعلقہ ضروری ٹیسٹ کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا تاہم خاتون کے طبی ریکارڈ میں کچھ اندراجات مشکوک تھے جس کی وجہ سے ہسپتال کو شک ہے کہ پیش کی گئی الٹراساؤنڈ رپورٹ مبینہ طور پر جعلی بھی ہو سکتی ہے۔

پولیس نے ہسپتال سے تمام ریکارڈ تحویل میں لے کر عملے کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے ہیں جبکہ پولیس حکام کے مطابق تمام شواہد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھیج دیے جائیں گے۔ دوسری جانب خاتون کے شوہر نے ہسپتال کے خلاف کارروائی کی درخواست بھی دی ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

طبی ماہرین کا عمومی مؤقف یہ ہے کہ حمل کی آزادانہ تصدیق کے بغیر آپریشن نہیں کیا جانا چاہیے تھا، ویسے بھی ڈاکٹروں کی پہلی ترجیح عام طور پر نارمل ڈیلیوری ہی ہوتی ہے۔ اِس واقعے کے بعد یہ سوال بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ متعلقہ ڈاکٹروں نے پیش کی گئی رپورٹوں کی آزادانہ تصدیق کیوں نہیں کی اور کیا اس بنیاد پر ڈاکٹروں اور متعلقہ عملے کے خلاف کوئی باقاعدہ کارروائی کی جائے گی ؟

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515