سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے شیئرز میں مبینہ غیر معمولی تجارت کی تحقیق کے سلسلے میں محمد فرّوخ، صفدر سجاد، فہمیدہ امین اور حنا صفدر کو 3 ستمبر 2026 کو کراچی میں اپنی تفتیشی ٹیم کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہونے کا آخری نوٹس جاری کیا ہے؛ فرّوخ کو بینکوں کے ساتھ شیئرز کے پلِج کے متعلق دستاویزات بھی لانے کا کہا گیا ہے۔
کراچی — سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے شیئرز میں مبینہ غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کی جانچ کے سلسلے میں چار افراد کو حتمی نوٹس جاری کیے ہیں۔
ایس ای سی پی نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ محمد فرّوخ، صفدر سجاد، فہمیدہ امین اور حنا صفدر کو 3 ستمبر 2026 کو کمیشن کے کراچی دفتر میں اپنی تفتیشی ٹیم کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔ ان افراد کو پہلے 31 اگست کو طلب کیا گیا تھا مگر نوٹس کے مطابق وہ پیش نہ ہوئے اور نہ ہی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی۔
یہ رسمی تفتیش 2 جون 2026 کو سیکیورٹیز ایکٹ، 2015 کے سیکشن 139 کے تحت شروع کی گئی تھی تاکہ یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ تحقیق میں زیرِ غور افراد کی جانب سے شیئرز سے متعلق ذمہ داری اور متعلقہ لین دین کے ریکارڈ کا معائنہ شامل ہے۔
خصوصی طور پر محمد فرّوخ کو کہا گیا ہے کہ وہ بینکوں کے ساتھ یونٹی فوڈز شیئرز کی پلِجنگ سے متعلق وضاحت اور متعلقہ ثبوتی دستاویزات فراہم کریں۔ صفدر سجاد، فہمیدہ امین اور حنا صفدر کو بھی اپنے متعلقہ تجارتی ریکارڈ اور ثبوت ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایس ای سی پی نے اپنی وضاحت میں کہا کہ کمیشن نے یونٹی فوڈز شیئرز میں ممکنہ معاملات کی نشان دہی کی بنیاد پر یہ تفتیش شروع کی ہے اور متعلقہ تجارتی سرگرمیوں اور لین دین کا جائزہ لے کر یہ معین کرے گا کہ بازار قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔
کمیشن نے نوٹس وصول کرنے والوں کو کہا ہے کہ وہ تفتیشی ٹیم کو مکمل اور متعلقہ دستاویزات پیش کریں؛ آئندہ کارروائی اس تفتیش کے نتائج کے مطابق کی جائے گی۔




