پاکستان ایل این جی نے مہنگی بولی مسترد کر کے 140,000 مکعب میٹر کے لیے نیا ٹینڈر جاری کر دیا

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے بی پی سنگاپور کی مہنگی بولی رد کر کے 140,000 مکعب میٹر کے لیے نیا ٹینڈر جاری کیا؛ کارگو 8 تا 12 ستمبر میں درکار ہے اور بولیاں جمعہ کو کھولی جائیں گی۔

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے بی پی سنگاپور کی امریکی ڈالر 26.969 فی ایم ایم بی ٹی یو والی واحد موصولہ بولی کو مہنگا قرار دے کر رد کر دیا اور 140,000 مکعب میٹر کے قریب ایک نئے ایل این جی کارگو کے لیے نیا ٹینڈر جاری کیا؛ بولیاں جمع کرانے کی تاریخ جمعہ طے کی گئی ہے اور کارگو 8 تا 12 ستمبر کے درمیان ڈیلیوری کے لیے درکار ہے۔

اسلام آباد — پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے ایک مہنگی بولی مسترد کرنے کے بعد ایک نئے ٹینڈر کا اعلان کیا ہے تاکہ ملک کے بجلی کے شعبے کو درپیش ایل این جی کی فراہمی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

کمپنی کو موصولہ واحد بولی بی پی سنگاپور کی طرف سے امریکی ڈالر 26.969 فی ایم ایم بی ٹی یو تھی جسے سینئر پیٹرولیم ڈویژن اہلکاروں نے قدرے زیادہ قرار دیا اور مسترد کر دیا گیا۔ نئے ٹینڈر میں مانگا گیا کارگو اندازاً 140,000 مکعب میٹر کا ہے اور اس کی ترسیل 8 تا 12 ستمبر کے درمیان مطلوب ہے۔ ٹینڈر جمع کرانے کے بعد بولیاں جمعہ کو کھولی جائیں گی۔

ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں موجودہ ایل این جی کی قیمت قریب امریکی ڈالر 23.18 فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، اس لیے بی پی سنگاپور کی بولی اس معیاری سطح سے نمایاں طور پر زیادہ سمجھی گئی۔

نئے ٹینڈر کا اعلان اسی وقت سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں طویل بجلی بندشوں کی شکایات سامنے آ رہی ہیں اور حکومت کو فوری اضافی ایل این جی سپلائی حاصل کرنے کا دباؤ ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹ میں داخلہ اس وقت کیا جب قطری کارگو جو 25 اور 26 اگست کو متوقع تھا، دستیاب نہیں ہوا۔

علاوہ ازیں، خلیج سے ہونے والی ترسیل اور قیمتوں کی غیر یقینی صورتحال میں اضافے کا سبب علاقے میں امریکہ اور ایران کے تنازع کے باعث تنگہ ہرمز کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی بتائی جا رہی ہے۔ اس کشیدگی نے بحری راستوں، شپنگ اور گلف سے آنے والی پیداوار پر خدشات بڑھا دیے ہیں جو قیمتوں اور دستیابی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پاکستان ایل این جی کا اقدام بازار میں مناسب قیمت پر فراہمی یقینی بنانے اور عوامی خدمات میں خلل کو کم کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ کمپنی یا پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے مزید تفصیلات یا بولی کنندگان کی شناخت جاری نہیں کی گئی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527