آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مجموعی فروخت اگست 2026 میں سال بہ سال 3 فیصد اور ماہانہ 16 فیصد کم ہو کر 1.3 ملین ٹن رہی، جبکہ فرنس آئل کی فروخت چار گنا سے زائد بڑھی — ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے قیمتوں میں اضافے، ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی قلت اور پنجاب میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کو اس کی وجہ قرار دیا۔
کراچی — پاکستان میں اگست 2026 میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی طلب نمایاں طور پر کم ہو گئی، جس کا سہرا مہنگے ایندھن کو جاتا ہے، جبکہ فرنس آئل کی مانگ توانائی بحران کے تحت اچانک بڑھ گئی ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے اعداد و شمار کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی کل فروخت 1.3 ملین ٹن رہی، جو سال بہ سال 3 فیصد اور جولائی کے مقابلے میں 16 فیصد کم ہے۔
فِرنَس آئل کو خارج کر کے او ایم سیز کی فروخت 1.2 ملین ٹن تک گر گئی جو سال بہ سال 9 فیصد اور ماہ بہ ماہ 23 فیصد کی کمی ہے۔ اس کے برعکس فرنس آئل کی فروخت گذشتہ سال کے مقابلے چار گنا سے زائد رہی اور جولائی کے مقابلے میں 26 فیصد بڑھ گئی — تجزیہ کاروں نے اس کا سبب ایل این جی کی قلت اور پنجاب میں بڑھنے والی لوڈشیڈنگ بتائی ہے، جس کے باعث بجلی کی پیداوار کے لیے زیادہ فرنس آئل استعمال کیا جا رہا ہے۔
پٹرول کی فروخت 666,000 ٹن رہی، جو سال بہ سال 1 فیصد اور ماہ بہ ماہ 9 فیصد کم ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت 422,000 ٹن تک گر گئی، جو سال بہ سال 19 فیصد اور ماہ بہ ماہ 32 فیصد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔ قیمتوں کا اثر واضح ہے: موٹر اسپرٹ اوسطاً 334 روپے فی لیٹر رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 26 فیصد اور جولائی کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل اوسطاً 379 روپے فی لیٹر رہا، جو سال بہ سال 36 فیصد اور ماہ بہ ماہ 11 فیصد اضافے کا عندیہ دیتا ہے۔
کمپنی وار جائزہ میں اٹک پیٹرولیم کی فروخت 121,000 ٹن رہی، جو سال بہ سال 8 فیصد بڑھ گئی مگر ماہ بہ ماہ 5 فیصد کم ہوئی؛ اس کی مارکیٹ شیئر 119 بیس پوائنٹس بڑھ کر 9.61 فیصد رہی۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی فروخت 570,000 ٹن رہی، جو سال بہ سال 4 فیصد بڑھنے کے باوجود ماہ بہ ماہ 19 فیصد کم ہوئی اور اس کی مارکیٹ شیئر 131 بیس پوائنٹس کم ہو کر 45.21 فیصد رہ گئی، جس کی وجہ اس کے فرنس آئل کی فروخت میں تیزی سے کمی تھی — پی ایس او نے اس ماہ صرف 23 ٹن فرنس آئل بیچا۔ وافی انرجی کی فروخت 107,000 ٹن رہی جب کہ ہیسکول کی فروخت 35,000 ٹن پر آ کر 16 فیصد سالانہ اور ماہانہ کمی دکھائی۔
مالی سال 2027 کے پہلے دو مہینوں میں او ایم سیز کی مجموعی فروخت 2.8 ملین ٹن رہی، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے؛ فرنس آئل کو نکال کر یہ مقدار 2.7 ملین ٹن ہے، جو 7 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا توانائی کے شعبے میں قیمتوں، ایندھن کے متبادل اور گرِڈ پریشر کی موجودہ تصویر پیش کرتا ہے۔




