سندھ طاس معاہدہ” عالمی ثالثی میں پاکستان کو اہم قانونی برتری، بھارت کا ہٹ دھرمی پر مبنی انکار

سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی میں پاکستان کو اہم قانونی برتری، بھارت کا ہٹ دھرمی پر مبنی انکار نئی آزمائش

سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی میں پاکستان کو اہم قانونی برتری، بھارت کا ہٹ دھرمی پر مبنی انکار نئی آزمائش

1960 کے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) پر پاکستان اور بھارت کا تنازع ایک نئے اور انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ ہیگ میں قائم Permanent Court of Arbitration نے 31 اگست 2026 کو قرار دیا کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت کا اسے یکطرفہ طور پر “التوا” میں ڈالنا معاہدے یا قابلِ اطلاق بین الاقوامی قانون کے تحت جائز نہیں تھا۔ عدالت نے رَٹلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر بھی عبوری پابندیاں عائد کی ہیں۔

پاکستان کے لیے سب سے اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ ثالثی عدالت نے پہلے ہی 2023 میں اپنی jurisdiction برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ جون 2025 میں اس نے واضح کیا کہ بھارت کا معاہدے کو “abeyance” میں رکھنے کا اعلان بھی عدالت کے اختیار کو ختم نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ عدالت نے بھارت کی عدم شرکت کے باوجود کارروائی جاری رکھنے کی قانونی بنیاد برقرار رکھی۔

یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور قانونی فائدہ ہے، کیونکہ اسلام آباد کا بنیادی مؤقف یہی رہا ہے کہ بھارت یکطرفہ اقدام کے ذریعے ایک دہائیوں پرانے بین الاقوامی معاہدے کی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔ معاہدہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ دریائے سندھ کا نظام ملکی زراعت اور پانی کی سلامتی کی بنیاد ہے۔ تاہم اصل چیلنج عملدرآمد کا ہے۔ بھارت نے تازہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو اس کے “خودمختار فیصلوں” پر اختیار حاصل نہیں اور اس نے کارروائی میں شرکت بھی نہیں کی۔ یوں پاکستان کی قانونی پوزیشن مضبوط دکھائی دیتی ہے، لیکن اسلام آباد کے لیے اگلا مرحلہ اس قانونی کامیابی کو بین الاقوامی سفارت کاری، پانی کے تحفظ اور عملی تعمیل میں تبدیل کرنا ہوگا۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236