وفاقی حکومت نے بدھ کو اعلان کیا کہ پٹرول کی قیمت 2.29 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 1.11 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے؛ نئے ریٹس پیٹرول کے لیے 346.16 روپے اور ایچ ایس ڈی کے لیے 372.03 روپے فی لیٹر ہوتے ہوئے یہ تبدیلی 3 ستمبر سے نافذ العمل ہوگی، پیٹرولیم ڈویژن کی نوٹیفیکیشن کے مطابق۔
وفاقی حکومت نے بدھ کو پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی مگر باضابطہ اضافہ کیا ہے۔ پیٹرول 2.29 روپے فی لیٹر مہنگا ہو کر 346.16 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 1.11 روپے اضافے کے بعد 372.03 روپے فی لیٹر ہو گئی۔
یہ نیا ریٹ پیٹرولیم ڈویژن کی نوٹیفیکیشن کے تحت 3 ستمبر (جمعرات) سے لاگو ہو گا۔ حکومت نے نوٹیفیکیشن میں یہ بھی واضح کیا کہ پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹی عائد ہیں۔
ماخذ کے مطابق ایندھن کی قیمتیں اس سال اپریل کے اوائل میں عروج پر تھیں: 3 اپریل کو ایچ ایس ڈی 520.35 روپے فی لیٹر اور پٹرول 458.41 روپے فی لیٹر تک پہنچا تھا۔ ایندھن کی قیمتوں کا حالیہ اتار چڑھاؤ عالمی منڈی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد تیزی سے بڑھنے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شروع ہوا تھا، جس کا اثر فروری کے آخر سے دیکھا جا رہا ہے۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے 17 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بنا پر اب ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے کی جائیں گی۔ اسی فیصلے کے تحت کابینہ اور وزیراعظم نے اوئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو یہ ذمہ داری سونپنے کی منظوری دی، تاکہ بین الاقوامی رجحانات کی فوری عکاسی ممکن ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمت میں تبدیلی خصوصی طور پر درمیانے اور نچلے درمیانے طبقے کو متاثر کرتی ہے کیونکہ پٹرول ذاتی نقل و حمل، چھوٹی گاڑیاں، رکشے اور دو پہیہ گاڑیوں کے لیے بنیادی ایندھن ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی مجموعی عوام کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ ڈیزل بڑے ٹرانسپورٹ سیکٹر، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پٹرول اور ایچ ایس ڈی ممالک کے لیے سب سے زیادہ آمدنی والے ایندھن ہیں، جن کی ماہانہ فروخت قریب 700,000 سے 800,000 ٹن بنتی ہے، جبکہ کرینوسین کی ماہانہ مانگ محض 10,000 ٹن کے قریب ہے۔
حکومت نے گزشتہ ماہ سے ایندھن کی قیمتوں میں لچکدار طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے تاکہ عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا فوری اثر گھریلو قیمتوں میں منتقل کیا جا سکے۔




