انتھراپک کا ’ماڈل ہارڈویئر سٹینڈرڈ (ایم ایچ ایس)‘، اے آئی ایجنٹ لیبارٹری اور فیکٹری مشینوں کو منٹوں میں کر سکتے ہیں

انتھراپک نے ایم ایچ ایس کا پری ویو جاری کیا، جو سافٹ ویئر ڈرائیورز کے ذریعے اے آئی ایجنٹس کو پروگرام ایبل لیبارٹری اور صنعتی آلات کنٹرول کرنے کا معیاری طریقہ فراہم کرتا ہے۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) انتھراپک نے ایم ایچ ایس کا پری ویو جاری کیا ہے جس کا مقصد ایک مشترکہ قواعد کا نظام مہیا کرنا ہے، اے آئی ایجنٹس ایم ایچ ایس کے ذریعے پروگرام کی جا سکنے والی مشینوں کے سافٹ ویئر ڈرائیورز کے ذریعے اِنہیں جلد از جلد کنٹرول کر سکتے ہیں اور ہفتوں یا مہینوں میں ہونے والا انضمامی عمل گھنٹوں یا منٹوں میں ہو سکتا ہے۔

ایم ایچ ایس کا بنیادی مقصد مختلف لیبارٹریوں، فیکٹریوں اور تحقیقی آلات کو ایک مشترکہ طریقۂ کار کے تحت اے آئی ایجنٹوں کے ساتھ جوڑنا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایم ایچ ایس سافٹ ویئر ڈرائیورز استعمال کرتا ہے جو کمپیوٹر سسٹمز اور انفرادی مشینوں کے درمیان ہدایات کا ترجمہ کرتے ہیں تاکہ مختلف انٹرفیس والے آلات ایک مستقل انداز میں بات چیت کر سکیں۔

ایم ایچ ایس بنیادی کمانڈز کے ذریعے پڑھائی، پیمائش یا سیٹنگ بدلنے جیسے کاموں کے لیے ایک معیاری طریقہ فراہم کرتا ہے۔ اِس نظام میں ہر مشین کے بارے میں معلومات کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے (جو عام طور پر تکنیکی مینولز یا تجربہ کار سٹاف کے علم میں رہتی ہیں) اور یہ معلومات صارف کی زبان میں فراہم بھی کی جا سکتی ہیں تا کہ ایم ایچ ایس خود ایک حوالۂ مواد تیار کرے جس میں مشین کی صلاحیتیں، دستیاب ایڈجسٹمنٹس اور حفاظتی پابندیاں درج ہوں۔

انتھراپک کا کہنا ہے کہ ایم ایچ ایس مائیکرو سکوپ، مائع ہینڈلرز، روبوٹک بازو اور دیگر پروگرام کیے جا سکنے والے آلات کو منظم کر سکتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ جب آلات ایم ایچ ایس کو سپورٹ کریں گے تو ہارڈویئر انضمام کے وہ عمل جو پہلے ہفتوں یا مہینوں لیتے تھے اب گھنٹوں یا منٹوں میں مکمل ہو سکتے ہیں۔ پری ویو میں ’’کلود‘‘ ماڈل کو مختلف تجربات میں جانچا گیا ہے۔

ایم ایچ ایس ایجنٹس کو متعدد آلات کے احکامات ملا کر خودکار کام کا طریقہ کار بنانے کی سہولت بھی دیتا ہےجو بصورتِ دیگر الگ الگ کنٹرولنگ سافٹ ویئرز کے ذریعے ممکن ہوتا تھا۔ ابتدائی شرکاء میں ایمیزون ویب سروسز (اے ڈبلیو ایس)، آٹومیٹا، ڈناہر، دوسان روبوٹکس، ایم بی ایف بایوسائنس، کیاگن، ٹیکان اور یونیورسل روبوٹس شامل ہیں۔

انتھراپک نے البتہ خبردار کیا ہے کہ زبان ماڈلز فزیکل آلات کے بارے میں استدلال میں حدود رکھتے ہیں اِس لیے ماہر نگرانی لازمی رہے گی جبکہ ایم ایچ ایس اُن آلات کے ساتھ کام نہیں کر سکتا جن میں پروگرام ایبل انٹرفیس موجود نہ ہو۔ کمپنی پری ویو کے ذریعے حفاظتی جانچیں اور عملی رہنما اصول تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور مستقبل میں نتائج کے ساتھ اوپن سورس ریلیز کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ابھی یہ منصوبہ تجرباتی مرحلے میں ہے اور اس کی عملی افادیت ہارڈویئر ڈیزائن، سافٹ ویئر رسائی اور انسانی نگرانی پر منحصر رہے گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515