نیپالی حکام نے چین کی وزارتِ آبی وسائل کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رسووا میں واقع نئی گلیشیائی جھیل ’لیک ٹو‘ میں 31 اگست تک تقریباً 650,000 مکعب میٹر پانی جمع ہو چکا ہے اور وہ بھری ہوئی ہے، جس کے پھٹنے کا خطرہ ہے—سینیئر ہائیڈرولوجسٹ بنود پراجولی نے امدادی عملہ اور سرنگی کارکنان کو چوکس رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔
نیپالی حکام نے بتایا ہے کہ رسووا ضلع کے لانگٹانگ لیرونگ ہمالیہ کی مغربی ڈھلوان پر واقع نئی گلیشیائی جھیل ’لیک ٹو‘ تیزی سے بھر رہی ہے اور اس کے پھٹنے کا خدشہ موجود ہے۔ چین کی وزارتِ آبی وسائل کے ڈیٹا کے مطابق 31 اگست تک جھیل میں تخمینہ 650,000 مکعب میٹر پانی جمع ہو چکا تھا، جو مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا۔
سینیئر ہائیڈرولوجسٹ بنود پراجولی نے بی بی سی نیوز نیپالی کو کہا: ‘یہ گلیشیائی جھیل بھری ہوئی ہے۔ اس لیے اس کے پھٹنے کا خطرہ ہے۔’ پراجولی نے امدادی کارکنوں، خصوصاً اُن اہلکاروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی جو آبی بجلی کے منصوبوں کی سرنگوں اور نشیبی علاقوں میں تلاشِ امید رہنمائی میں مصروف ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ جھیل رسووا کے تینزنگ مقام کے سامنے واقع ہے اور اس کی سطحی رقبہ 0.3 مربع کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ پراجولی نے گہرائی کا درست اندازہ مشکل بتاتے ہوئے کہا کہ عمومی تخمینہ کے مطابق گہرائی تقریباً 10 میٹر ہو سکتی ہے، جس کے باعث مجموعی پانی کا حجم بڑھ جاتا ہے۔ جھیل کی متوقع بلندی تقریباً 4,000 میٹر بتائی گئی ہے۔
ماہرِ ماحولیات نے انتباہ کیا ہے کہ اگرچہ یہ جھیل 30 اگست کو پھٹنے والی وہ جھیل نہیں ہے جو نیپال۔چین سرحد پر ٹوٹی تھی، مگر نئے پانی کے جمع ہونے اور پہاڑی علاقوں میں مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کے رجحان کی وجہ سے خطرات برقرار ہیں۔ پراجولی کے مطابق 26 اگست کے سیلاب میں نیپال کی جانب تقریباً 2,000,000 مکعب میٹر پانی بہہ کر آیا تھا—موجودہ جھیل کا پانی اس کے مقابلے میں بہت کم ہے مگر پھر بھی نشیبی علاقے اور نالوں میں اضافی رسوب اور مٹی کے بہاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
پراجولی نے کہا کہ اس مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کئی مقامات پر ریکارڈ ہوئی ہے اور ایک سے زیادہ سطحوں پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا: ‘صرف ایک جھیل ایسی ہے جس کے پھٹنے کا خطرہ ہے اور وہ حال ہی میں بننے والی لیک ٹو ہے۔’ حکام نے یہ بھی کہا کہ اگر لیک ٹو پھٹی تو اس کے اثرات غالباً 26 اگست کے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں سے آگے نہیں جائیں گے، مگر مقامی رہائشیوں اور امدادی عملے کے لیے چوکس رہنا ضروری ہے۔
نیپالی حکام نے جھیل کی نگرانی جاری رکھنے اور خطرے کی صورت میں فوری وارننگ سسٹم اور رکاوٹیں بنانے پر زور دیا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ نے سرنگی عمل اور متاثرہ نشیبی علاقوں میں کام کرنے والوں کو اضافی احتیاط کی ہدایت کی ہے۔




