میلونی : سامان عباس کیس کے بعد اٹلی میں خواتین کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
روم ( مانیٹرنگ ڈیسک): اٹلی کی وزیراعظم جارجیا ملونی نے خواتین کی آزادی، وقار اور زندگی کے تحفظ کو ریاست کی غیر متزلزل ترجیح قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اٹلی میں ان بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا یہ سخت مؤقف ایک پاکستانی نژاد نوجوان خاتون سمن عباس کے قتل کے مقدمے میں اٹلی کی سپریم کورٹ کی جانب سے مجرمانہ سزاؤں کو برقرار رکھنے کے بعد سامنے آیا۔
سمن عباس کو 2021 میں شمالی اٹلی کے علاقے نوویلارا میں قتل کیا گیا تھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق وہ اپنے خاندان کی جانب سے پاکستان میں کزن سے جبری شادی کے دباؤ کی مخالفت کر رہی تھیں۔ عدالتوں میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق سمن نے اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق پر اصرار کیا اور اس سلسلے میں سماجی خدمات اور پولیس سے بھی مدد حاصل کی تھی۔
جولائی 2026 میں اٹلی کی کورٹ آف کیسیشن نے سمن کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف قتل کی سزاؤں کو برقرار رکھا۔ چار افراد کو عمر قید کی سزا برقرار رہی جبکہ سمن کے چچا دانش حسنین کی 22 سالہ قید کی سزا بھی برقرار رکھی گئی۔ اٹلی کے اعلیٰ ترین عدالتی فیصلے نے پانچ سال سے جاری قانونی کارروائی کو حتمی مرحلے تک پہنچا دیا۔
فیصلے کے بعد وزیراعظم ملونی نے کہا کہ کوئی عدالتی فیصلہ سمن کی زندگی واپس نہیں لا سکتا، تاہم ان لوگوں کو حتمی طور پر مجرم قرار دینا ضروری تھا جنہیں اس وحشیانہ جرم کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اٹلی میں کسی مبینہ ثقافتی یا مذہبی جواز کے نام پر کسی عورت کی آزادی، عزت یا زندگی سلب کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ملونی کا بیان اٹلی میں خواتین کے حقوق اور جبری شادی کے خلاف ریاستی پالیسی کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس مقدمے نے خاص طور پر تارکین وطن خاندانوں میں خواتین کی مرضی، خاندانی دباؤ اور اٹلی کے قانون کی بالادستی سے متعلق بحث کو نمایاں کیا ہے۔
وزیراعظم کے مؤقف کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اٹلی میں قانون تمام شہریوں پر یکساں لاگو ہوگا اور کسی ثقافتی، خاندانی یا مذہبی دلیل کو خواتین کے بنیادی حقوق محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سمن عباس کیس نے اسی اصول کو ایک انتہائی المناک مثال کے ذریعے عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔




