واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی آبادی کے زبردستی اخراج یا جبری نقلِ مکانی کے کسی منصوبے کی حمایت نہیں کرتا،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی اَمن منصوبے کے نکتہ نمبر 12 میں لکھا گیا ہے کسی کو جبراً منتقل نہیں کیا جائے گا۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیلی حکام کی اِس تجویز کو رَد کر دیا ہے کہ غزہ کی آبادکاری ختم کر کے فلسطینیوں کو علاقے سے نکالا جائے۔ محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اَمن معاہدے کے مطابق کسی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا تاہم جو لوگ چھوڑنا چاہیں وہ آزاد ہوں گے اور واپس بھی آ سکتے ہیں۔ امریکہ لوگوں کو رہنے کی ترغیب دیں گے اور انہیں بہتر غزہ بنانے کا موقع فراہم کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے اُس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ غزہ کو خالی کرنا بحران کا واحد ’’حل‘‘ ہے اور اِس علاقے سے فلسطینیوں کی ’’ہجرت‘‘ ناگزیر ہے۔ کاٹز نے کہا تھا کہ حکومت فلسطینیوں کو ’’سمندر، ہوا یا کسی بھی ذریعے‘‘ سے نکالنے کے لیے تیار ہے اور یہ خیال ’’ہمیشہ سے زیرِ بحث ہے۔‘‘
انسانی حقوق کے گروپوں اور متعدد مبصرین نے اِس طرح کے بیانات کو نسلی صفائی کے مترادف قرار دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق عرب ممالک، جن میں کچھ امریکی قریبی اتحادی بھی شامل ہیں نے بھی فلسطینیوں کو اُن کے وطن سے ہٹانے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی برادری کے ردِعمل کی وجہ سے کسی بھی قسم کی جبری منتقلی بین الاقوامی تنقید کا باعث بن سکتی ہے۔



