چین کا 54 ارب ڈالر کا مالیاتی انجیکشن، بینکوں کو سرمایہ یا معیشت کو نئی طاقت؟
( مانیٹرنگ ڈیسک) بیجنگ: چین نے اپنے بڑے سرکاری بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 360 ارب یوآن، یعنی 54 ارب ڈالر کے بڑے سرمایہ جاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم آٹھ بڑے سرکاری مالیاتی اداروں میں تقسیم ہوگی، جس میں وزارتِ خزانہ 300 ارب یوآن کے خصوصی سرکاری بانڈز کے ذریعے مرکزی کردار ادا کرے گی، جبکہ اضافی سرمایہ دیگر سرکاری اداروں سے آئے گا۔ اس اقدام کی اصل اہمیت سمجھنے کے لیے گزشتہ ایک دہائی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ چین کے بینکاری نظام نے گزشتہ برسوں میں تیزی سے قرضوں، پراپرٹی بحران، کم شرحِ سود اور کمزور منافع کے دباؤ کا سامنا کیا ہے۔ Fitch کے مطابق 2015 سے 2024 کے دوران چینی بینکاری نظام نے تقریباً 25 ٹریلین یوآن کے غیر فعال قرضے نمٹائے، جو 2024 کے اختتام پر نظام کے اثاثوں کا تقریباً 7 فیصد تھے۔
حالیہ برسوں میں بیجنگ نے بینکوں کو براہِ راست سرمایہ فراہم کرنے کی پالیسی تیز کردی ہے۔ مارچ 2025 میں چین کے چار بڑے سرکاری بینکوں نے مجموعی طور پر 520 ارب یوآن ($71.6 ارب) کے نئے سرمائے کا منصوبہ بنایا۔ 2026 میں حکومت نے مزید 300 ارب یوآن ($44 ارب) کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس کا مقصد نظامی خطرات کم کرنا اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سمیت معیشت کو قرض کی فراہمی بڑھانا تھا۔ اب 54 ارب ڈالر کا نیا پیکیج اس سلسلے کو مزید وسیع کرتا ہے، کیونکہ اس مرتبہ بڑے بینکوں کے ساتھ انشورنس کمپنیاں اور پالیسی بینک بھی نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ایگریکلچر بینک آف چائنا کو 160 ارب یوآن اور انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا کو 100 ارب یوآن تک سرمایہ ملنے کی منصوبہ بندی ہے، جبکہ چائنا لائف کو 35 ارب یوآن دیے جائیں گے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ بیجنگ بنیادی طور پر اپنے مالیاتی نظام کی بیلنس شیٹس مضبوط کرکے بینکوں کو زیادہ قرض دینے کی گنجائش دے رہا ہے۔
لیکن مسئلہ صرف سرمایہ کی کمی نہیں؛ کمزور قرض طلب اور کم شرحِ سود بھی بینکوں کے منافع کو دبا رہی ہے۔ لہٰذا یہ اقدام خود بخود معاشی تیزی کی ضمانت نہیں دیتا۔ ممکنہ فائدہ اٹھانے والے کون ہوں گے؟ فوری طور پر بڑے سرکاری بینک اور انشورنس ادارے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، برآمدات اور نجی کاروباری شعبے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اگر اضافی بینک سرمایہ حقیقی معیشت تک پہنچتا ہے۔ طویل مدت میں چینی اسٹاک مارکیٹ بھی مستحکم مالیاتی اداروں اور زیادہ ریاستی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ یوں یہ $54 ارب کا پیکیج محض بینکوں کا بیل آؤٹ نہیں بلکہ چین کی مالیاتی طاقت کو مضبوط کرکے کمزور طلب، پراپرٹی بحران اور سست معاشی رفتار کے مقابلے کی حکمت عملی ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ نیا سرمایہ صرف بینکوں کی بیلنس شیٹس بہتر کرتا ہے یا واقعی کاروبار، سرمایہ کاری اور کھپت کو بھی متحرک کرتا ہے۔




