کوہستک شادی حملہ: ایران کا امریکا کو دوٹوک انتباہ، ’’جوابی کارروائی کا حق محفوظ ہے‘
( مانیٹرنگ ڈیسک) تہران: ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تہران نے کوہستک میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے پر جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھا ہوا ہے اور امریکا کو اس کے نتائج سے آگاہ رہنا چاہیے۔ایرانی حکام کے مطابق جنوبی صوبہ ہرمزگان کے علاقے کوہستک میں ایک رہائشی مکان میں شادی کی تقریب جاری تھی کہ امریکی حملے کی زد میں آگئی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں کم از کم چار شہری، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، ہلاک جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ایران نے واقعے کو شدید جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ محسن رضائی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرچکی ہے۔ ایرانی قیادت پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ امریکی حملوں کا جواب میدانِ جنگ، سفارت کاری اور معاشی محاذ پر دیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کا الزام امریکا کے خلاف عالمی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔ تہران نے اقوام متحدہ کو بھیجے گئے خط میں حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب واقعے کی مکمل ذمہ داری اور حملے کے ہدف سے متعلق تفصیلات پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔ تازہ رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی حکام اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حملے کے دوران استعمال ہونے والا ایک ہتھیار اپنے مطلوبہ ہدف سے منحرف ہوکر شادی کی تقریب کے مقام سے ٹکرایا ہو۔




