229 فیصد دفاعی بجٹ میں اضافہ، ترکیہ نے عسکری خود انحصاری کی دوڑ تیز کردی
( مانیٹرنگ ڈیسک) انقرہ: ترکیہ نے اپنی دفاعی صلاحیتوں، مقامی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دفاعی اخراجات میں 229 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان ترک نائب صدر جودت یلماز نے نئے درمیانی مدت کے اقتصادی پروگرام کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کیا، جو 2027 سے 2029 تک ملک کا اقتصادی روڈ میپ متعین کرتا ہے۔
جودت یلماز کے مطابق ترکیہ کا مقصد دفاعی صنعت میں اپنی ٹیکنالوجی خود تیار کرنا اور زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی، معاشی اور سکیورٹی حالات میں دفاعی خود انحصاری ترکیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ترکیہ کے دفاعی اخراجات میں اضافہ گزشتہ ایک دہائی کے رجحان کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ SIPRI کے مطابق 2016 میں ترکیہ کے فوجی اخراجات تقریباً 15.5 ارب ڈالر تھے، جو 2025 میں بڑھ کر تقریباً 30 ارب ڈالر ہوگئے۔ یوں دس برس میں موجودہ امریکی ڈالر کے حساب سے فوجی اخراجات تقریباً 94 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ 2025 میں ترکیہ دنیا کے 18 بڑے فوجی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل رہا۔ اس عرصے میں اخراجات کا رجحان یکساں نہیں رہا۔ 2020 میں ترکیہ کے فوجی اخراجات تقریباً 17.7 ارب ڈالر، 2021 میں 15.5 ارب، 2022 میں 10.6 ارب، 2023 میں 15.8 ارب اور 2024 میں 25 ارب ڈالر رہے۔ اس کے بعد 2025 میں اخراجات تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 7.2 فیصد اضافہ تھا۔
ترکیہ کی دفاعی پالیسی میں صرف بجٹ بڑھانا ہی نہیں بلکہ مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دینا بھی نمایاں ترجیح بن چکا ہے۔ ڈرونز، جنگی طیاروں، میزائل نظام، بحری پلیٹ فارمز اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجیز میں مقامی صلاحیت بڑھانے کی کوششوں نے انقرہ کو بیرونی سپلائی پر انحصار کم کرنے کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ نئے اقتصادی پروگرام کے تحت ترکیہ نے 2026 کی معاشی شرح نمو کا ہدف 3.3 فیصد مقرر کیا ہے، جبکہ 2027 میں 4.2، 2028 میں 4.6 اور 2029 میں 5 فیصد شرح نمو کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ مہنگائی بھی بتدریج کم ہوگی۔ یوں 229 فیصد دفاعی اخراجات میں مجوزہ اضافہ محض بجٹ کا معاملہ نہیں بلکہ ترکیہ کی بڑھتی ہوئی دفاعی خود انحصاری، مقامی اسلحہ سازی اور علاقائی و عالمی سطح پر اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔




