ایران نے شدید امریکی پابندیوں اور عالمی بینکاری نظام تک محدود رسائی کے باوجود چین کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے لیے تیل کے بدلے اشیا کی فراہمی پر مبنی ایک پیچیدہ بارٹر نما نظام استعمال کیا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق اس نظام کے ذریعے تقریباً 2 سے 2.5 ارب ڈالر کی رقم روایتی بینکاری راستوں سے ہٹ کر چینی برآمد کنندگان، ایرانی منصوبوں اور تیل کی آمدنی کے درمیان منتقل کی گئی۔ اس میں ایک خصوصی مقصد کے ادارے کا کردار بھی سامنے آیا ہے۔
اس ماڈل نے پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا کیا ہے: کیا اسلام آباد ایران کے ساتھ اسی طرز کی قانونی، دستاویزی اور شفاف بارٹر تجارت کو وسعت دے سکتا ہے؟ پاکستان اور ایران تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کے ذریعے جڑے ہیں، جبکہ دونوں ممالک پہلے ہی سرحدی منڈیوں، سڑک اور ریل رابطوں اور تجارت بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ حالیہ رابطوں میں دونوں ممالک نے ٹرانسپورٹ رابطے مضبوط کرنے اور دوطرفہ تجارت کے طریقہ کار کو بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ممکنہ ماڈل میں پاکستان چاول، گوشت، پھل، ادویات، ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات ایران کو فراہم کرے جبکہ ایران قانونی طریقہ کار کے تحت توانائی، پیٹروکیمیکل مصنوعات، پھل، کھجور، زعفران یا دیگر اشیا فراہم کرے۔ اس سے ڈالر پر انحصار کم اور سرحدی معیشت کو فروغ مل سکتا ہے۔
لیکن بنیادی فرق انتہائی اہم ہے: بارٹر تجارت اور پابندیوں سے بچنے کا خفیہ نظام ایک چیز نہیں۔ پاکستان اگر امریکی یا اقوام متحدہ کی پابندیوں سے بچنے کے مقصد سے خفیہ مالیاتی نیٹ ورک بناتا ہے تو پاکستانی بینکوں، کمپنیوں اور برآمد کنندگان کو ثانوی پابندیوں کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ایران پر موجودہ مالی دباؤ بھی انتہائی شدید ہے اور واشنگٹن نے پابندیوں کے دائرے کو مزید وسیع کیا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے بہتر راستہ شفاف بارٹر، مقامی کرنسی میں باقاعدہ تجارت، کسٹمز نگرانی اور قانونی بینکاری متبادل کا امتزاج ہوگا، نہ کہ خفیہ sanctions-dodging نظام۔ یوں پاک ایران سرحد ایک غیر رسمی معیشت کے بجائے ایک باقاعدہ علاقائی تجارتی راہداری بن سکتی ہے۔




