حوثی ’اے آئی‘ میزائل سیل نے عالمی سلامتی کے لیے نیا خطرہ کھڑا کر دیا

امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی انتھروپک کی تازہ تہدیدی انٹیلی جنس رپورٹ نے جدید جنگ اور مصنوعی ذہانت کے خطرناک امتزاج کو بے نقاب کر دیا ہے

حوثیوں کا اے آئی میزائل سیل، ایران اور حزب اللہ کا سایہ، نئی عالمی تشویش

(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی انتھرواپک کی تازہ انٹیلیجنس رپورٹ نے جدید جنگ اور مصنوعی ذہانت کے خطرناک امتزاج کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شمالی یمن میں سرگرم ایک سیل نے کلاڈ کوڈ کو انسانی سافٹ ویئر انجینئرز کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے میزائل پروگراموں کے لیے رہنمائی، نیویگیشن اور کنٹرول سافٹ ویئر تیار کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی نے اِس گروپ کا نام براہِ راست نہیں لیا تاہم شمالی یمن میں اِس کی موجودگی اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے کے تناظر میں اسے حوثی نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سیل نے بیک وقت کلاڈ کی متعدد مثالیں استعمال کیں، ایک سے کوڈنگ، دوسرے سے تحقیق اور تیسرے سے جائزہ لینے جیسے کام لیے گئے۔ پروگرام میں ایک گائیڈڈ راکٹ، 2,000 کلومیٹر سے زیادہ رینج رکھنے والے بیلسٹک میزائل اور آر۔2000 نامی ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل سے متعلق منصوبے شامل تھے۔ انتھراپک کے مطابق کئی درخواستیں حفاظتی نظام نے روکیں تاہم گروپ نے اپنے مقاصد چھپانے اور سرگرمی کو مختلف سیشنوں میں تقسیم کرکے حفاظتی رکاوٹوں سے بچنے کی کوشش کی۔

کون سے ممالک یا گروپس حوثیوں کی مدد کرتے رہے ہیں؟

سب سے اہم نام ایران کا سامنے آتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران نے حوثیوں کو ہتھیاروں کے ساتھ تربیت، جدید سازوسامان اور دیگر معاونت فراہم کی ہے۔ امریکی حکام برسوں سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور اس کے ذیلی نیٹ ورکس کو حوثی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں سے جوڑتے رہے ہیں۔ دوسرا اہم کردار لبنان کی حزب اللہ کا ہے۔ متعدد دفاعی مطالعات میں حزب اللہ کے حوثیوں کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے کا ذکر ملتا ہے، بالخصوص میزائل، ڈرون اور عسکری ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں میں۔ تاہم اس مخصوص AI سیل کو حزب اللہ کی براہِ راست نگرانی میں ہونے کا آزادانہ ثبوت موجود نہیں۔

چین کے حوالے سے صورتحال مختلف ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے چینی کمپنیوں اور سپلائی نیٹ ورکس کو حوثیوں تک میزائل اور ڈرون پروگراموں کے لیے دوہرے استعمال کے پرزے پہنچانے کے معاملے میں نشانہ بنایا ہے، جن میں گائیڈنس سسٹمز کے اجزا بھی شامل تھے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ AI نے پیچیدہ عسکری سافٹ ویئر تک رسائی کی رکاوٹ کم کرنے کا امکان پیدا کر دیا ہے۔ اگر ایسے گروپس پہلے سے موجود میزائل، ڈرون اور انجینئرنگ نیٹ ورکس کے ساتھ AI کو جوڑ لیتے ہیں تو روایتی دفاعی نگرانی کے لیے خطرہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ Anthropic کا انکشاف اسی بدلتی ہوئی جنگی حقیقت کی ایک اہم وارننگ ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236