پاکستان اور چین نے مشترکہ بارڈر کمیشن فعال کر دیا، انڈیا نے اسے مسترد کر دیا

پاکستان اور چین نے مشترکہ سرحدی انتظام کے لیے بنائے گئے جوائنٹ بارڈر کمیشن کو فعال کیا؛ اسلام آباد میں اجلاس ہوا جبکہ انڈیا نے اس اقدام کو قانونی حیثیت سے مسترد کر دیا۔

پاکستان اور چین نے اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے قائم مشترکہ کمیشن کو فعال کر دیا۔ بدھ کو اسلام آباد میں منعقدہ اس کمیشن کے پہلے اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام شریک ہوئے، جبکہ انڈیا نے اس اقدام کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیشن قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

پاکستان اور چین نے اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے قائم مشترکہ کمیشن کو باقاعدہ طور پر فعال کر دیا ہے۔ بدھ کو اسلام آباد میں ہونے والے اس کمیشن کے پہلے اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام شریک ہوئے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پلیٹ فارم سرحدی انتظام، تجارت، مشترکہ سروے اور عوامی روابط کے فروغ میں مدد دے گا۔

حکام نے کہا ہے کہ کمیشن کے ذریعے سرحدی نشانات کی دیکھ بھال، سرحد پار سہولیات کے انتظام، مشترکہ جائزوں اور دیگر عملی امور پر رابطہ کاری کی جائے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس اقدام سے خنجراب پاس کے ذریعے آمدورفت، تجارت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق تعاون مزید مضبوط ہو سکے گا۔

یہ کمیشن 2013 میں پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے سرحدی انتظام کے معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا، تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر فعال کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فعال بننے کے بعد یہ کمیٹی عملی سطح پر تعاون بڑھانے اور روزمرہ سرحدی انتظام کے مسائل کے تدارک کے لیے کام کرے گی۔

انڈیا نے اس اقدام کی سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کسی بھی قسم کی سرحد موجود نہیں، اس لیے اس نوعیت کا کوئی کمیشن قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔ انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جاری بیان میں کہا کہ نئی دہلی کا مؤقف ’واضح اور مستقل‘ ہے اور وہ پاکستان-چین سرحدی کمیشن کے تصور کو تسلیم نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ 1963 کے معاہدے کو انڈیا نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ اسے ’غیر قانونی اور کالعدم‘ قرار دیتا ہے۔

اسلام آباد کے ایک محقق اسد اللہ خان، جو انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے پاکستان چائنہ سٹڈی سینٹر سے وابستہ ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے معاہدوں کو وقتی طور پر لاگو کرنے سے پہلے ان کی افادیت اور پائیداری کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ کمیشن سے بارڈر مینجمنٹ، جوائنٹ بارڈر سروس اور تجارتی نقل و حمل کے ساتھ لوگوں کے درمیان رابطے میں بہتری متوقع ہے۔

پاکستان اور چین کا مؤقف یہ ہے کہ نیا کمیشن کسی سرحدی تنازعے کے حل کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے متعین سرحد کے انتظام اور عملی امور کے حل کے لیے بنایا گیا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1546