اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات: پاکستان کی قیادت میں (یو ایف سی) نے نئے مستقل ارکان کی مخالفت دہرادی
اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات: پاکستان کی قیادت میں (یو ایف سی) نے نئے مستقل ارکان کی مخالفت دہرادی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی 2026 کے دوران اتفاقِ رائے کے لیے اتحاد (یو ایف سی) گروپ نے سلامتی کونسل کی اصلاح کے معاملے پر اپنے مؤقف کو دوبارہ واضح کرتے ہوئے نئے مستقل ارکان کی شمولیت کی مخالفت کی ہے۔ 24 ستمبر کو جاری مشترکہ بیان میں 12 ممالک—ارجنٹینا، کینیڈا، کولمبیا، کوسٹا ریکا، اٹلی، مالٹا، میکسیکو، پاکستان، جنوبی کوریا، سان مارینو، اسپین اور ترکیہ—نے سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جوابدہ اور مؤثر بنانے کے لیے جامع اصلاحات کی حمایت کی۔
یو ایف سی- کا کہنا ہے کہ نئے مستقل نشستوں کے بجائے منتخب ارکان کی تعداد میں اضافہ، خصوصاً طویل مدت کے لیے گھومتی ہوئی نشستیں، زیادہ وسیع نمائندگی کا راستہ فراہم کرسکتی ہیں۔اقوام متحدہ جنرل اسمبلی 2026 کے دوران ( یو ایف سی) گروپ کے مطابق اس ماڈل سے افریقہ کے تاریخی طور پر کم نمائندگی والے خطے کے ساتھ ایشیا پیسیفک اور لاطینی امریکا و کیریبین جیسے علاقوں کی نمائندگی بہتر ہوسکتی ہے، جبکہ تمام رکن ممالک کی خودمختار مساوات کا اصول برقرار رہتا ہے۔
پاکستان، اٹلی اور جنوبی کوریا سمیت UfC ممالک کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی رکنیت میں مستقل اضافہ کرنے کے بجائے منتخب اور قابلِ تجدید نشستوں کا نظام زیادہ جوابدہی پیدا کرسکتا ہے۔ جون 2026 میں بھی UfC نے کہا تھا کہ باقاعدہ انتخابات تمام رکن ممالک کو کونسل کی تشکیل میں حصہ لینے کا موقع دیتے ہیں۔
دوسری جانب سلامتی کونسل کی اصلاح پر اقوام متحدہ میں مختلف ماڈلز زیرِ بحث ہیں، جن میں مستقل اور غیر مستقل دونوں اقسام کی نشستیں بڑھانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ اس لیے 2026 کا بین الحکومتی مذاکراتی عمل ( آئی جی این) مختلف گروپوں کے درمیان اتفاقِ رائے تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔




