حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی: پاکستان کا موقف کیا ہے؟

سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان کو ریاض کے ساتھ اپنے دفاعی وعدوں کی پاسداری اور یمن میں براہِ راست جنگ سے گریز کرنے کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

یمن میں سعودی حملے کی تیاری: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ دفاعی عہد اور جنگ سے گریز کے درمیان اہم امتحان

سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف ممکنہ نئی بڑی فوجی کارروائی کی اطلاعات نے پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی اور دفاعی سوال کھڑا کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ریاض آئندہ چند ہفتوں میں باب المندب اور بحیرۂ احمر کی جہازرانی بحال کرنے کے لیے کارروائی پر غور کر رہا ہے، جس میں 100,000 سے زائد یمنی اہلکاروں، سعودی فضائی مدد اور دو ممکنہ آپشنز—محدود ساحلی حملہ یا متعدد محاذوں پر وسیع آپریشن—شامل ہیں۔ امریکا انٹیلی جنس اور مشاورتی مدد دے رہا ہے، جبکہ براہِ راست جنگ میں شامل ہونے کی توقع نہیں۔

پاکستان کے لیے یہ معاملہ اس لیے غیر معمولی اہم ہے کہ 7 اگست 2026 کے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول اپنایا ہے۔ 25 ستمبر کو تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے ریاض میں دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر بھی بات کی۔

لیکن مکہ معاہدہ سعودی حملے میں پاکستانی زمینی فوج کی خودکار شرکت کے مترادف نہیں۔ ستمبر میں پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ پاکستان حوثیوں کے خلاف حملوں میں شامل ہونے کا منصوبہ نہیں رکھتا اور یمن کے مسئلے کا حل مذاکرات اور سفارت کاری میں دیکھتا ہے۔

پاکستان کی ممکنہ پوزیشن

تازہ رائٹرز رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب میں 30,000 سے 40,000 اہلکار دفاعی مقاصد، سرحدی تحفظ اور ڈرون و میزائل خطرات سے نمٹنے کے لیے تعینات کیے ہیں، لیکن اسلام آباد نے یمن کے اندر جنگی کردار ادا کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

دفاعی وزیر خواجہ آصف نے حالیہ بیان میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے “تمام دستیاب ذرائع” استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا، تاہم انہوں نے پاکستانی فضائی حملوں یا یمن میں براہِ راست فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔

اس کے ساتھ ہی پاکستان نے ایران سے رابطے بھی برقرار رکھے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق مکہ معاہدے کے تینوں ممالک اگلے ہفتے ریاض میں ہنگامی اجلاس کریں گے، جہاں حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے کی ایرانی تجویز پر بھی غور ہوگا۔

تاریخی تناظر

پاکستان پہلے بھی سعودی قیادت میں یمن جنگ میں براہِ راست شمولیت کے سوال سے گزر چکا ہے۔ 2015 میں پارلیمان نے یمن تنازع میں فوج بھیجنے سے گریز کرتے ہوئے غیر جانب دار رہنے اور سفارتی حل کی حمایت کی تھی۔ موجودہ صورتحال اس فیصلے کو ایک نئے تناظر میں واپس لے آئی ہے۔

پاکستان کے لیے بنیادی توازن یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے عزم، مکہ دفاعی معاہدے اور اپنے شہری و بحری مفادات کا تحفظ کرے، لیکن ساتھ ہی یمن میں ایک طویل زمینی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے۔ مزید برآں، باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملے پاکستان کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں؛ جولائی میں اسلام آباد نے واضح کیا تھا کہ پاکستانی پرچم والے جہاز یا پاکستانی بحری مفادات پر حملہ قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور ہوگا۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356