مراکش کی پہلی خاتون وزیراعظم فاطمہ الزہرا المنصوری، اسرائیل سے تعلقات برقرار

مراکش کی جانب سے فاطمہ الزہرا المنصوری کی بطور پہلی خاتون وزیراعظم تقرری ایک تاریخی سیاسی پیش رفت ہے، تاہم موجودہ شواہد اسرائیل یا ’ابراہیمی معاہدوں‘ (ابراہیمی معاہدے) کے حوالے سے ملک کے تعلقات میں فوری تبدیلی کی نشاندہی نہیں کرتے۔

مراکش کی پہلی خاتون وزیراعظم، اسرائیل سے تعلقات برقرار رہنے کے امکانات

مراکش میں فاطمہ الزہرا المنصوری کی بطور پہلی خاتون سربراہِ حکومت تقرری ملکی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی ہے، لیکن دستیاب شواہد کے مطابق اس کا فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات یا ابراہم معاہدوں کے خاتمے کا مطلب نہیں۔ شاہ محمد ششم نے 29 ستمبر 2026 کو المنصوری کو حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی۔ ان کی جماعت جماعتِ اصالت و جدیدیت (پی اے ایم) نے 395 رکنی ایوان میں 97 نشستیں حاصل کیں، لہٰذا نئی حکومت کو اتحادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

یہاں اہم نکتہ مراکش کے آئینی اور سیاسی ڈھانچے کا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم داخلی حکمرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، خارجہ پالیسی اور دفاع جیسے سٹریٹجک معاملات میں بادشاہ کا کردار مرکزی ہے۔ اسی لیے المنصوری کی تقرری کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں فوری پالیسی تبدیلی کی علامت سمجھنا فی الحال شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔

تاریخی طور پر مراکش اور اسرائیل کے روابط نئے نہیں۔ دونوں کے درمیان غیر رسمی رابطے کئی دہائیوں سے موجود رہے، جبکہ دسمبر 2020 میں ابراہم معاہدوں کے تناظر میں سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔ اس معاہدے کے ساتھ امریکا نے مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کیا، جو رباط کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک عنصر تھا۔ بعد ازاں دفاع، انٹیلی جنس، تجارت اور ٹیکنالوجی میں تعاون بھی بڑھا۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ 16 ستمبر 2026 کو المنصوری کی تقرری سے پہلے ہی مراکش اور اسرائیل نے اپنے سفارتی مشنز کو مکمل سفارت خانوں میں تبدیل کرنے، سفیروں کی تعیناتی، براہِ راست پروازیں بحال کرنے اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کو آگے بڑھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلقات کسی ایک حکومت یا وزیراعظم تک محدود نہیں رہے بلکہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرچکے ہیں۔

تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ فلسطین ہے۔ مراکش کی سرکاری پالیسی اسرائیل سے تعلقات کے باوجود فلسطینی ریاست کی حمایت برقرار رکھنے کی بات کرتی ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے المنصوری کو مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تعاون کو آگے بڑھانے کی امید ظاہر کی، جبکہ مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کا مطلب ہر معاملے پر اتفاق نہیں۔

لہٰذا موجودہ صورتحال کو “اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار، مگر فلسطین پر مراکش کی اپنی پالیسی” کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ المنصوری کی اصل سیاسی آزمائش حکومت سازی، معاشی اصلاحات اور اتحادی نظم و ضبط ہوگی؛ اسرائیل پالیسی میں فوری تبدیلی کے شواہد فی الحال سامنے نہیں آئے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356