ایران کے قریب امریکی فوجی اجتماع میں اضافہ، کیا واشنگٹن زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے؟
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں مزید 9,000 سے 10,000 فوجیوں اور تیسری ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ کی تعیناتی نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے اگلے مرحلے کے بارے میں اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور یو ایس ایس میکن آئی لینڈ پر مشتمل میرین فورسز خطے کی جانب روانہ کی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق نومبر کے اختتام تک خطے میں تین امریکی طیارہ بردار گروپ اور دو خشکی و تری پر کارروائی کرنے والے دستے موجود ہوسکتے ہیں۔
یہ پیش رفت محض طاقت کا مظاہرہ نہیں سمجھی جا سکتی، لیکن اسے ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کے حتمی فیصلے کا ثبوت قرار دینا بھی قبل از وقت ہوگا۔ موجودہ شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ وسیع فوجی آپشنز فراہم کر رہا ہے۔ الجزیرہ نیوز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بڑے فوجی اجتماع کا مقصد تہران کے ساتھ سفارت کاری جاری رہنے کے باوجود فوجی آپشنز کو میز پر رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے بھی 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے بڑھانے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ اے پی نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد کے مرحلے میں مزید کارروائی ممکن ہے، جبکہ ایران کی حالیہ جنگ بندی تجویز کو انہوں نے ناکافی قرار دیا۔
تاریخی تناظر
امریکا نے 2003 میں عراق پر حملے سے قبل بھی خلیج میں بڑی فوجی قوت جمع کی تھی، تاہم موجودہ صورتحال اس سے مختلف ہے۔ عراق جنگ سے پہلے تقریباً 150,000 امریکی فوجی خطے میں جمع کیے گئے تھے، جبکہ آج کی تعیناتی کا بنیادی مقصد پہلے مرحلے میں فضائی، بحری اور محدود زمینی آپشنز کو مضبوط بنانا دکھائی دیتا ہے۔
ایران کے معاملے میں سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز، امریکی اڈوں، اسرائیل اور خلیجی ریاستوں تک ممکنہ جنگ کے پھیلاؤ کا ہے۔ امریکی فوجی اضافہ پہلے ہی عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر رہا ہے؛ امریکی فوجی اور واشنگٹن-تہران مذاکرات میں تعطل نے خلیجی مارکیٹوں اور سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھائی ہے۔
یوں موجودہ تعیناتی کو “زمینی حملے کا اعلان” نہیں بلکہ واشنگٹن کی جانب سے فوجی اختیارات وسیع کرنے کی تیاری کہنا زیادہ محتاط تجزیہ ہوگا۔ اصل سمت اس بات پر منحصر ہوگی کہ نومبر کے انتخابات سے پہلے یا بعد میں ایران کے ساتھ سفارتی رابطے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔




