مکہ دفاعی معاہدہ: سفارتی و خصوصی پاسپورٹ پر ویزا فری سفر، عام شہری بدستور ویزا کے پابند
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے بعد سفارتی اور خصوصی/سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا سہولت میں پیش رفت کو تینوں ممالک کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کی ایک اہم علامت سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ایک اہم وضاحت ضروری ہے: عام پاسپورٹ رکھنے والے شہری اس سہولت میں شامل نہیں ہیں۔
تازہ ترین طور پر ترکیہ اور سعودی عرب نے سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنا کی منظوری دی ہے۔ اس انتظام کے تحت اہل افراد کو داخلے، ٹرانزٹ، روانگی اور عارضی قیام کے لیے ویزا درکار نہیں ہوگا، جبکہ قیام کی اجازت 180 دن میں زیادہ سے زیادہ 90 دن ہوگی۔ سعودی کابینہ نے یہ معاہدہ 29 ستمبر کو منظور کیا؛ ترکیہ اس کی منظوری جون میں دے چکا تھا۔
پاکستان اور سعودی عرب نے بھی 22 ستمبر کو سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے مختصر مدتی ویزا استثنا کے معاہدے پر دستخط کیے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس کا مقصد اعلیٰ سطحی روابط، ادارہ جاتی تبادلوں اور باہمی تعاون کو مزید آسان بنانا ہے۔
مکہ معاہدے سے تعلق کیا ہے؟
7 اگست 2026 کو مکہ میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے۔ معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تین میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی تعاون، مشترکہ صلاحیت اور اجتماعی روک تھام کو مضبوط بنانا اس کا مرکزی مقصد ہے۔
بعد میں تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی بنانے، مشترکہ دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور پیداوار میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان کو ابتدائی طور پر معاہدے کے تحت قائم ہونے والے سیکریٹریٹ کی سربراہی تین سال کے لیے دی گئی ہے۔
تازہ ترین علاقائی تناظر میں تینوں ممالک کا دفاعی تعاون مزید فعال دکھائی دیتا ہے۔ 25 ستمبر کو تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے ریاض میں انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام پر بات کی۔
2 اکتوبر کو پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ مکہ معاہدے کے تینوں رکن ممالک اگلے ہفتے ریاض میں ہنگامی اجلاس کریں گے، جس میں یمن کے حوثیوں سے سیاسی رابطے کی ایرانی تجویز پر بھی غور ہوگا۔
تاریخی اعتبار سے اہم نکتہ یہ ہے کہ دفاعی اتحاد کے ساتھ ویزا سہولت کا دائرہ ابھی عوامی سطح تک نہیں پہنچا۔ موجودہ فیصلے بنیادی طور پر سرکاری، سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے تیز تر سرکاری روابط کو آسان بناتے ہیں؛ عام پاکستانی، ترک اور سعودی شہریوں کے لیے عام پاسپورٹ پر ویزا فری سفر ابھی اس اعلان کا حصہ نہیں ہے۔




