پاکستان اور مصر کا ایران سے جوہری رعایتوں کا مطالبہ، تہران کا جواب: پہلے جون کا مفاہمتی معاہدہ نافذ کیا جائے
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور مصر کی جانب سے ایران پر جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایتیں قبول کرنے کے لیے زور دینے کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کا بحران بدستور موجود ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد اور قاہرہ کا بنیادی مؤقف مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور 18 جون 2026 کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (مفاہمت کی یادداشت) پر عمل درآمد کی حمایت ہے۔ پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ نے 21 جون کو مشترکہ بیان میں اس معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
ایران کا مؤقف یہ ہے کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے جون کے(مفاہمت کی یادداشت) کی شرائط پر عملی عمل درآمد دیکھے بغیر نئے مرحلے کی حتمی جوہری بات چیت شروع نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق حتمی مذاکرات کا آغاز MoU کی پانچ اہم شقوں پر عمل درآمد سے مشروط ہے، جن میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی اٹھانا، آبنائے ہرمز سے تجارتی آمدورفت کی بحالی، ایرانی تیل کی برآمدات سے متعلق پابندیوں میں رعایت اور منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی شامل ہے۔
تاریخی تناظر
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع کی جڑیں دو دہائیوں سے زیادہ پرانی ہیں۔ 2015 کا (جے سی پی او اے) ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے پابندیوں میں نرمی کا ایک اہم سفارتی فریم ورک تھا، لیکن 2018 میں امریکا کے معاہدے سے نکلنے کے بعد اعتماد مزید کم ہوا۔ موجودہ بحران اسی طویل عدم اعتماد کے پس منظر میں آگے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کا کردار خاص طور پر اہم ہے کیونکہ جون میں اسلام آباد نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت میں ثالثی کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پاکستان اور قطر نے بعد ازاں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے ایک میکنزم بھی قائم کیا، جس میں جوہری امور، پابندیوں اور نگرانی کے لیے ورکنگ گروپس شامل ہیں۔
تازہ صورتحال میں ایران کا پیغام بنیادی طور پر ”عزم کے بدلے عزم“ ہے؛ یعنی تہران کے مطابق اسے پہلے امریکی وعدوں پر عمل درآمد کا قابلِ تصدیق ثبوت چاہیے۔
اسی لیے پاکستان اور مصر کی سفارتی کوششوں کا اصل امتحان یہ ہے کہ کیا وہ ایران کی جوہری حساسیت، امریکی مطالبات اور علاقائی سلامتی کے درمیان ایسا راستہ نکال سکتے ہیں جس میں دونوں فریق پہلے سے کیے گئے وعدوں پر اعتماد بحال کریں۔ موجودہ شواہد کے مطابق ایران نے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، مگر اسے یک طرفہ جوہری رعایت کے بجائے باہمی اور قابلِ تصدیق اقدامات سے جوڑ دیا ہے۔




