مانچسٹر سٹی فیصلے کا برطانیہ۔یو اے ای تعلقات پر اثر، اربوں پاؤنڈ کی سرمایہ کاری خطرے میں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مانچسٹر سٹی کے خلاف پریمیئر لیگ کے مالیاتی مقدمے کا فیصلہ اب صرف فٹبال کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے ممکنہ اثرات برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے وسیع تر تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات تک پہنچ گئے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اماراتی حکام نے برطانوی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ کلب کے خلاف کارروائی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مستقبل کی اماراتی سرمایہ کاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔
29 ستمبر کو جاری کیے گئے فیصلے میں آزاد کمیشن نے مانچسٹر سٹی کو 2009/10 سے 2017/18 تک مالیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق تمام الزامات میں قصوروار قرار دیا اور تحقیقات میں تعاون نہ کرنے سے متعلق چار میں سے تین الزامات بھی برقرار رکھے۔ پریمیئر لیگ کے مطابق مبینہ مالی اسکیموں کے ذریعے آمدنی اور اخراجات میں £900 ملین سے زیادہ کا فرق پیدا کیا گیا۔
تاہم قانونی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ مانچسٹر سٹی نے 2 اکتوبر کو باضابطہ اپیل دائر کرتے ہوئے کمیشن کے فیصلے کو قانون، اصول اور حقائق کے حوالے سے غلط قرار دیا اور اپنی بے گناہی برقرار رکھی ہے۔ اپیل ایک آزاد تین رکنی بورڈ سنے گا۔
تاریخی تناظر
2008 میں ابو ظہبی سے وابستہ سرمایہ کاری کے بعد مانچسٹر سٹی عالمی فٹبال کے بڑے کلبوں میں تبدیل ہوا۔ اس دوران کلب نے متعدد پریمیئر لیگ ٹائٹلز اور 2023 میں چیمپئنز لیگ سمیت نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اسی سرمایہ کاری نے مانچسٹر اور یو اے ای کے درمیان وسیع معاشی تعلقات کو بھی نمایاں کیا۔
برطانوی حکومت خود اماراتی سرمایہ کاری کو اہم قرار دیتی رہی ہے۔ جولائی 2026 میں وزیراعظم اور اماراتی صدر کے درمیان گفتگو میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تجارت اور برطانیہ میں اماراتی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا تھا۔
اب سب سے حساس معاملہ آکسفورڈ-کیمبرج ٹیکنالوجی کوریڈور ہے۔ رپورٹس کے مطابق اماراتی سرمایہ کاری واپس لینے کا امکان اس منصوبے کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، جہاں برطانیہ تقریباً £10 ارب کی نجی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم یہ بات فی الحال ایک رپورٹ شدہ انتباہ ہے، حتمی سرمایہ کاری واپس لینے کا اعلان نہیں۔




