روسی لیب کارکن ’نامعلوم‘ وائرس سے ہلاک، سیکڑوں افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا

سائبیریا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ارکتسک (Irkutsk) میں طاعون کی روک تھام پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے کے 28 سالہ ملازم کی شدید نمونیا کے باعث ہلاکت کے بعد تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی یا تنہائی (آئسولیشن) میں رکھا گیا ہے۔ کئی ہسپتالوں نے بھی قرنطینہ کے اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

روس میں لیب سے مہلک وائرس کے اخراج

“روسی حکام نے لیبارٹری سے مہلک وائرس خارج ہونے کے بعد سینکڑوں افراد کو قرنطینہ کردیا اور کئی اسپتال بند کردیے. تازہ رپورٹس کے مطابق سائبیریا کے شہر ارکتسک میں ایک اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 28 سالہ خاتون ملازم شدید نمونیا کے بعد ہلاک ہوئی، جس کے بعد تقریباً 197 افراد کو طبی نگرانی یا تنہائی میں رکھا گیا اور متعدد طبی مراکز میں قرنطینہ اقدامات کیے گئے۔ تاہم روسی صحت کے ادارے نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی کہ موت کی وجہ واقعی پلیگ تھی یا لیبارٹری سے کوئی خطرناک جرثومہ خارج ہوا تھا۔

رپورٹس کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر طبی عملے کو بتایا تھا کہ اس نے 25 ستمبر کو لیبارٹری میں زندہ حیاتیاتی نمونے رکھنے والی ٹیسٹ ٹیوب توڑ دی تھی۔ بعض مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس نے ممکنہ یرسینیا پیسٹس یعنی پلیگ کے جرثومے سے تعلق ظاہر کیا، لیکن روسی وفاقی صارف و صحت نگرانی ادارہ صارفین کے تحفظ اور بہبود کی نگرانی کے لیے وفاقی ادارے نے کہا ہے کہ ادارے میں پیتھوجینک مائکرو آرگینزم کے حادثے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔

تاریخی تناظر: پلیگ کا نام آج بھی خوف کیوں پیدا کرتا ہے؟

پلیگ انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک وباؤں میں شمار ہوتی ہے۔ 14ویں صدی کی سیاہ موت نے یورپ، ایشیا اور شمالی افریقہ میں کروڑوں جانیں لیں۔ جدید دور میں صورتحال مختلف ہے کیونکہ مناسب اینٹی بایوٹک علاج کے ذریعے پلیگ قابلِ علاج ہے، لیکن نیومونک کا طاعون انتہائی تیزی سے پھیل سکتی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ہوسکتی ہے۔

اسی تاریخی پس منظر کی وجہ سے کسی اینٹی پلیگ لیبارٹری میں مشتبہ exposure کو معمولی واقعہ نہیں سمجھا جاتا۔ تقریباً 200 افراد کی نگرانی اور اسپتالوں میں احتیاطی پابندیاں احتیاطی وبائی ردعمل ہوسکتی ہیں، لیکن ان اقدامات کو خودبخود “وباء پھیلنے” کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔

اصل فیکٹ چیک

سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ابھی تک بڑے پیمانے پر انسانوں میں منتقلی کا کوئی تصدیق شدہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ روسی حکام کے مطابق زیرِ نگرانی افراد میں بیماری کی علامات نہیں دیکھی گئیں اور ابتدائی ٹیسٹ منفی بتائے گئے ہیں۔ ارکتسک میں صورتحال کو حکام نے “مستحکم” قرار دیا ہے۔

لہٰذا اس خبر کو فی الحال “مشتبہ لیبارٹری ایکسپوژر اور احتیاطی قرنطینہ” کہنا زیادہ درست ہے، نہ کہ “روسی لیب سے مہلک وائرس کا پھیلاؤ”۔ اصل خطرہ بیماری سے زیادہ معلومات کے تضاد اور شفافیت کی کمی ہے، کیونکہ مختلف ذرائع نے واقعے کی وجہ اور جرثومے کے بارے میں مختلف دعوے کیے ہیں۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356