چاند پر ایٹمی دوڑ: امریکا، روس اور چین خلائی طاقت کا نیا محاذ کھولنے کی تیاری میں
“امریکا، روس اور چین کے درمیان چاند پر ایٹمی ری ایکٹر نصب کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے”—تازہ رپورٹس کے مطابق یہ مقابلہ محض سائنسی تحقیق تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کے قمری اڈوں، وسائل اور خلائی رسائی سے جڑی ایک نئی جغرافیائی و اسٹریٹجک کشمکش بن رہا ہے۔ ناسا نے دسمبر 2030 تک چاند پر ایک فِشن ری ایکٹر بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ روس اور چین اپنے مشترکہ قمری منصوبے کے تحت تقریباً 2036 تک ری ایکٹر فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایٹمی ری ایکٹر چاند پر کیوں؟
چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ مسلسل توانائی ہے۔ وہاں سورج کی روشنی ہر مقام پر مسلسل دستیاب نہیں رہتی، جبکہ قمری رات طویل ہوتی ہے۔ ایٹمی فِشن ری ایکٹر سورج کی روشنی سے آزاد مسلسل بجلی فراہم کرسکتا ہے، جس سے رہائشی مراکز، سائنسی آلات، روورز اور مستقبل کے وسائل کی تلاش ممکن ہوسکتی ہے۔ NASA خود کہتا ہے کہ فِشن پاور چاند اور مریخ پر مسلسل آپریشنز کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔
تاریخی تناظر: اپولو سے نئی خلا کی دوڑ تک
1960ء کی دہائی کی امریکا-سوویت خلا کی دوڑ بنیادی طور پر یہ ثابت کرنے کی دوڑ تھی کہ کون خلا میں تکنیکی برتری حاصل کرسکتا ہے۔ اپولو 11 کے ذریعے امریکا نے 1969 میں چاند پر انسان اتار کر یہ مرحلہ جیت لیا، مگر موجودہ مقابلہ مختلف نوعیت کا ہے۔ اب مقصد صرف چاند تک پہنچنا نہیں بلکہ وہاں مستقل انفراسٹرکچر قائم کرنا ہے۔
روس کے لیے یہ منصوبہ اس کی پرانی خلائی اور ایٹمی مہارت کو دوبارہ اسٹریٹجک اثر میں تبدیل کرنے کا موقع ہے، جبکہ چین بین الاقوامی قمری تحقیقی مرکز (آئی ایل آر ایس) کے ذریعے چاند پر طویل المدتی موجودگی کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ دونوں نے 2021 میں قمری تحقیق میں تعاون شروع کیا اور اب ایٹمی توانائی اس شراکت داری کا اہم حصہ بن رہی ہے۔
امریکا کے لیے معاملہ صرف بجلی پیدا کرنے کا نہیں۔ خدشہ ہے کہ جو ملک پہلے قمری جنوبی قطب کے اہم علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ قائم کرے گا، وہ عملی طور پر “حفاظت” یا “کیپ آؤٹ زونز” کے ذریعے دوسرے ممالک کی سرگرمیوں کو محدود کرسکتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی خلائی قانون چاند پر کسی ملک کی خودمختاری یا ملکیت تسلیم نہیں کرتا۔
اصل چیلنج: دوڑ جیتنا یا محفوظ ٹیکنالوجی؟
یہ منصوبے ابھی عملی مرحلے سے بہت دور ہیں۔ لینڈنگ، ری ایکٹر کی حفاظت، تابکاری، ایندھن کی دستیابی اور حادثے کی صورت میں تابکار آلودگی بڑے سوالات ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ زمین پر ناکام خلائی مشن ایک بات ہیں، مگر چاند پر ایٹمی نظام کی ناکامی کے نتائج کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
یوں چاند پر نئی دوڑ دراصل توانائی، وسائل، ٹیکنالوجی اور خلائی جغرافیہ پر مستقبل کی طاقت کی دوڑ بنتی جارہی ہے۔ Apollo دور میں سوال تھا کہ “چاند پر کون پہلے پہنچے گا؟” آج سوال یہ ہے کہ “چاند پر مستقل رہنے کے لیے ضروری طاقت اور انفراسٹرکچر پہلے کون قائم کرے گا؟”




