بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی کی واپسی، الیکشن چیف سے استعفے کا مطالبہ

بھارت کی نوجوانوں کی قیادت والی 'کاکروچ جنتا پارٹی' (CJP) ایک بار پھر سڑکوں پر ہے اور اس بار انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے

کاکروچ جنتا پارٹی کی واپسی، بھارتی انتخابی نظام پر نیا دباؤ

” عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی طنزیہ سیاسی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) ایک بار پھر سڑکوں پر ہے، لیکن اس بار اس کا ہدف تعلیم نہیں بلکہ ملک کا انتخابی نظام اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہیں۔”

“2 اکتوبر کو ممبئی سے شروع ہونے والی نئی احتجاجی مہم میں نوجوان مظاہرین نے انتخابی اصلاحات، ووٹر فہرستوں کے تحفظ اور سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔” یہ تحریک اس وقت مزید اہم ہوگئی ہے جب اپوزیشن جماعتیں بھی الیکشن کمیشن کے خلاف اسی نوعیت کے اعتراضات اٹھا رہی ہیں۔

تنازع کی بنیادی وجہ خصوصی اور بھرپور نظرِ ثانی (SIR) ہے، جس کے ذریعے ووٹر فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی کی جارہی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل میں بڑی تعداد میں اہل ووٹرز کے نام متاثر ہوسکتے ہیں اور اس سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور مؤقف رکھتے ہیں کہ SIR کا مقصد جعلی، ڈپلیکیٹ اور غیر اہل اندراجات ختم کرنا ہے۔

“بحران کی شدت اس وقت بڑھی جب رپورٹس میں الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، کی جانب سے بعض فیصلوں پر بار بار اختلاف سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا۔” (سی جے پی) انہی اختلافات اور SIR کے فیصلوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے۔

(سی جے پی) کی نئی مہم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ نوجوان ووٹرز کے جمہوری حقوق اور ادارہ جاتی شفافیت کو سیاسی ایجنڈے کا مرکز بنا رہی ہے۔ گروپ نے SIR سے متعلق اخراج روکنے، سابقہ ووٹر فہرستوں کو محفوظ رکھنے، انتخابی ریکارڈ عوام کے سامنے لانے اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کے موجودہ قانونی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

“یوں بھارت میں معاملہ اب صرف ایک الیکشن کمشنر کے استعفے تک محدود نہیں رہا؛ یہ ووٹ کے حق، انتخابی اعتماد اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر وسیع تر سیاسی کشمکش بنتا جارہا ہے۔” 10 اکتوبر کو (سی جے پی) نے نئی ملک گیر احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 357