باب المندب میں حوثی بھاگ رہے ہیں، مکہ معاہدے کے بعد پاکستان افواج کی مکمل اینٹری

سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج نے باب المندب اور موخا کے آس پاس ایک تیز رفتار جوابی کارروائی شروع کی ہے اور حوثیوں کے خلاف نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پیش رفت مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے نمایاں طور پر فعال ہونے کے ساتھ بیک وقت سامنے آئی ہے

باب المندب میں جنگ تیز، مکہ معاہدے کے بعد پاکستان کی عملی انٹری

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کے سعودی حمایت یافتہ حکومتی دستوں نے پیر کے روز باب المندب آبنائے کے اطراف اور شہر المخا تک برق رفتاری سے پیش قدمی کرتے ہوئے حوثیوں سے اہم علاقے واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب اسی روز ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے اور متفقہ فوجی دستوں و دفاعی صلاحیتوں کی سعودی عرب میں تیز رفتار تعیناتی کے لیے فوری اقدامات پر اتفاق کیا۔

یہ دونوں پیش رفتیں خطے میں ایک نئی فوجی صف بندی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی باب المندب تک پیش قدمی محض یمنی خانہ جنگی کا معاملہ نہیں بلکہ دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک کے کنٹرول کی جنگ ہے۔ تاہم رائٹرز کے مطابق حکومتی فورسز کی مکمل پیش قدمی کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہوسکی اور حوثیوں نے بھی اپنے جوابی حملوں کے دعوے کیے ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں اصل تبدیلی پاکستان کے لیے سامنے آتی ہے۔ 5 اکتوبر کے مشترکہ اعلامیے میں تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع ذمہ داریاں پر فوری عمل درآمد، متفقہ فوجی صلاحیتوں کی فراہمی اور سعودی عرب میں ان کی فوری تعیناتی کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اس فیصلے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔

لیکن اہم فرق یہ ہے کہ پاکستانی افواج کے یمن میں داخل ہونے یا حوثیوں کے خلاف براہِ راست جنگ میں شریک ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ موجودہ فیصلہ بنیادی طور پر سعودی عرب کے دفاع اور اس کی سرحدی، فضائی، بحری اور اسٹریٹجک تنصیبات کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس لیے “پاکستان کی یمن میں انٹری” کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال 2015 کی یاد بھی تازہ کرتی ہے، جب اسلام آباد نے یمن جنگ میں براہِ راست فریق بننے سے گریز کیا تھا۔ اب مکہ معاہدہ پاکستان کو سعودی سلامتی کے دفاع میں کہیں زیادہ واضح اجتماعی ذمہ داری کے فریم ورک میں لے آیا ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد اب بھی ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان فوجی روک تھام اور سفارت کاری دونوں راستوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے۔اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر پاکستانی یا ترک افواج سعودی عرب میں تعینات ہونے کے بعد حوثیوں کے حملوں کا سامنا کرتی ہیں تو مکہ معاہدہ ایک دفاعی اتحاد سے عملی جنگی اتحاد کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 359