ٹی وی بااختیار خواتین دکھانے سے ہچکچاتا ہے، ثانیہ سعید

ثانیہ سعید نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹی وی بااختیار خواتین دکھانے میں ہچکچاتا ہے اور معاشرے میں عورت پر اخلاقی بوجھ ڈالنے کا نظریہ خطرناک ہے، انہیں ایسے بیٹے نہیں چاہییں جو سوال نہ کریں۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) اداکارہ ثانیہ سعید نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹی وی چینلز اور لکھنے والے عام طور پر بااختیار خواتین دکھانے سے ہچکچاتے ہیں اور معاشرے میں عورت پر اخلاقی بوجھ ڈالنے کے رویے کی نشاندہی کی۔

ثانیہ سعید نے بی بی سی اردو سے بات چیت میں کہا کہ آج بھی ٹی وی پر ایک بااختیار عورت دکھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی ہے کیونکہ “چینلز، رائٹرز اور عوام خواتین کو صرف اخلاقیات کے دائرے میں ہی جج کرنا چاہتے ہیں۔”

انہوں نے اپنے نئے ڈرامے ‘درِ نجات’ میں خوشبخت کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ڈرامے پر اتنی بات اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ پاکستانی ابھی بھی گھریلو معاملات اور رشتوں پر بات کرنا یا اس پر بات ہوتے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ڈرامے میں ابوبکر کا کردار شہریار منور نے ادا کیا ہے جبکہ زریاب کا کردار درفشاں نبھا رہی ہیں۔

ثانیہ نے اس بات پر اختلاف کا اظہار کیا کہ ناظرین اور سوشل میڈیا پر بعض اوقات ایسے رشتوں کو مثالی سمجھ لیا جاتا ہے جن میں بیٹا ماں کا ہر حکم بغیر سوال کے مان لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، “مجھے اس بات سے اختلاف ہے کہ ہماری خواتین کو ایسے بیٹے چاہییں جو سوال نہ کریں۔ والدین کو ایسے بچے چاہییں جو اُن کی ہر بات آنکھ بند کر کے تسلیم کریں۔” انہوں نے اسے ‘ٹاکسک پیرینٹنگ’ قرار دیا۔

اداکارہ نے ڈرامے کے پسِ منظر اور کرداروں کی نفسیات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ زریاب کے فیصلے کے سلسلے میں انھیں اصل شکایت بڑوں سے ہے جنھوں نے سوچے سمجھے بغیر اسے ایک اجنبی ماحول میں بھیج دیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ نفسیاتی طور پر ایک صدمے کے بعد براہِ راست کسی نئے رشتے میں نہ جانا بہتر ہوتا ہے۔

ثانیہ نے بتایا کہ ‘درِ نجات’ کے علاوہ وہ ‘آپ کی عزت’ اور ‘بومبے ٹیلرز’ میں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ اُن کے مطابق ‘آپ کی عزت’ کے مرکزی کردار بینا کو ناظرین نے اس لیے پسند کیا کہ اس نے اپنی زندگی بدلنے کی ہمت دکھائی، جب کہ عام طور پر ڈرامہ نگار عورتوں کو طاقت یا مہارت سے محروم رکھتے ہیں اور ان کی خودمختاری محدود دکھائی جاتی ہے۔

دراصل، ثانیہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ ڈرامے گھریلو موضوعات کے علاوہ مختلف طرز کہانیوں پر بننے کے باوجود اس قدر توجہ نہیں پاتے۔ انھوں نے کہا کہ ڈرامے کا مقصد دیکھنے والوں میں موضوعِ گفتگو پیدا کرنا ہی ہوتا ہے، اور موجودہ بحث اسی کی عکاسی ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2785