ٹرمپ کا ایران پر حملے روکنے کا اعلان، عراقچی کی سفارت کاری اہم مرحلے میں
“امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔” 8 اکتوبر کو جاری بیان میں انہوں نے ایران کے ساتھ جاری رابطوں کو “مثبت بات چیت” قرار دیا۔ تاہم، اس اعلان کا مطلب مستقل جنگ بندی یا فوجی کارروائی کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں ہے۔
“اس پیش رفت کو سمجھنے کے لیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ سفارتی رابطے اہم ہیں۔” ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وفد سے ثالثوں کے ذریعے طویل گفتگو کی۔ پاکستان اور قطر نے بھی سفارتی رابطوں میں کردار ادا کیا۔ اس کے بعد عراقچی نے تہران واپسی پر امریکی جواب ایرانی قیادت کے سامنے رکھا۔
9 اکتوبر کی اطلاعات کے مطابق ایران امریکی جوابی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور عراقچی نے اشارہ دیا ہے کہ تہران چند روز میں اپنا جواب دے سکتا ہے۔ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی پابندیوں، بحری ناکہ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں جیسے معاملات شامل ہیں۔ لیکن جوہری پروگرام پر اختلاف بدستور بنیادی رکاوٹ ہے: تہران یورینیم افزودگی کا حق ترک کرنے سے انکار کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن قابلِ تصدیق حدود چاہتا ہے۔
“عراقچی کے رابطوں پر ایران کے اندر بھی سیاسی اختلاف سامنے آیا ہے۔” بعض سیاست دانوں نے امریکی حکام سے رابطوں کے اختیار پر سوال اٹھائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی معاہدے کے لیے صرف واشنگٹن کی رضامندی کافی نہیں؛ تہران کے داخلی سیاسی حلقوں میں بھی اتفاق ضروری ہوگا۔ ٹرمپ کا انتخابی تاریخ سے پہلے حملہ نہ کرنے کا اعلان مذاکرات کو وقت دیتا ہے، مگر اسے امن کی ضمانت سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا دونوں فریق آبنائے ہرمز، پابندیوں اور جوہری پروگرام پر قابلِ عمل سمجھوتا کر سکتے ہیں یا نہیں۔




