امریکی ویزا کریک ڈاؤن، بھارتی آئی ٹی کمپنیوں اور اسٹارلنک پر دباؤ
“امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوب اور کئی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے مستقل رہائش کے گرین کارڈ اسپانسرشپ پروگرام کو معطل کر دیا ہے۔” اس فہرست میں بھارتی آئی ٹی شعبے کے نمایاں نام ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، وِپرو اور ایچ سی ایل کے علاوہ کاگنیزنٹ اور کیپجیمنی بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ بعض کمپنیاں کم اجرت پر غیر ملکی کارکنوں کی خدمات حاصل کرکے امریکی ملازمین کے مواقع متاثر کر رہی ہیں۔ یہ اقدام PERM لیبر سرٹیفکیشن کے عمل سے متعلق ہے؛ اسے تمام ورک ویزوں کی منسوخی سمجھنا درست نہیں۔
“یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت کی ٹیکنالوجی صنعت عالمی سطح پر دباؤ اور مسابقت کا سامنا کر رہی ہے۔” بھارتی آئی ٹی کمپنیاں طویل عرصے سے امریکی اداروں کو سافٹ ویئر، کنسلٹنسی اور آؤٹ سورسنگ خدمات فراہم کرتی رہی ہیں۔ مستقل رہائش کے راستے میں رکاوٹ سے ان کمپنیوں کے غیر ملکی ملازمین اور امریکا میں بھرتیوں کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، ایلون مسک کی اسپیس ایکس کمپنی کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کو بھارت میں تجارتی آغاز کے لیے ابھی سکیورٹی اور دیگر ضابطہ جاتی مراحل مکمل کرنا ہیں۔ مسک نے الزام لگایا ہے کہ بااثر بھارتی کاروباری گروہ اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں بھارتی ٹیلی کام صنعت کے طاقتور کاروباری مفادات پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
“تاہم بھارتی حکومت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیٹلائٹ مواصلاتی کمپنیوں کے لیے ضابطہ جاتی نظام غیر امتیازی ہے اور متعلقہ کمپنیوں کی سکیورٹی جانچ جاری ہے۔” ریلائنس جیو اور بھارتی ایئرٹیل جیسے مقامی اداروں کے بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے منصوبے اور شراکت داریاں موجود ہیں، جس سے اس شعبے میں تجارتی مفادات کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔




