یورپی دفاعی کمپنیوں کے مالکان، چیف ایگزیکٹوز اور دیگر سینئر عہدیدار روسی نشانے پر

11 اکتوبر 2026 کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہوئی، جس میں پانچ یورپی انٹیلی جنس اداروں کے حکام کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے کہ روسی آپریٹو یورپ کی دفاعی صنعت کے مالکان اور اعلیٰ عہدیداروں، بالخصوص ڈرون بنانے والی کمپنیوں، کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق مقصد صرف جسمانی نقصان نہیں بلکہ یوکرین کی دفاعی مدد کرنے والی کمپنیوں میں خوف پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

یورپ کی دفاعی قیادت مبینہ روسی نشانے پر، خفیہ اداروں کا انتباہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ کے پانچ انٹیلی جنس اداروں کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ روسی آپریٹو یوکرین کی دفاعی ضروریات پوری کرنے والی یورپی کمپنیوں کے مالکان، چیف ایگزیکٹوز اور دیگر سینئر عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بالخصوص ڈرون اور ان کے پرزے تیار کرنے والی چھوٹی کمپنیوں کے منتظمین کو ممکنہ خطرات لاحق ہیں۔ بعض مبینہ منصوبوں کو ناکام بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، جرمنی کے داخلی انٹیلی جنس ادارے نے دفاعی کمپنیوں کو سکیورٹی بڑھانے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ بعض ادارے اپنے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے نجی حفاظتی انتظامات پر غور کر رہے ہیں۔ حکام کا خدشہ ہے کہ روسی خفیہ نیٹ ورکس تخریب کاری اور دیگر خفیہ کارروائیوں کے ذریعے یورپ کی دفاعی پیداوار اور یوکرین کی مدد کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔

یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی یونین نے روس کے میزائل اور ڈرون ساز صنعتی نیٹ ورک سے منسلک افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں مزید سخت کی ہیں۔ تاہم، ان دونوں پیش رفتوں کو ایک ہی کارروائی کا حصہ قرار دینے کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔اگر دفاعی صنعت کے منتظمین کو خوف زدہ کیا جاتا ہے تو اس کا اثر سرمایہ کاری، بھرتیوں، تحقیق اور یوکرین کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے معاملہ صرف شخصی سلامتی کا نہیں بلکہ یورپ کی دفاعی خودمختاری کا بھی ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 359