اسلام آباد – ماسکو سکیورٹی تعاون, دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف نیا قدم
لاہور (ویب ڈیسک) عالمی میڈیا کے مطابق پاکستان اور روس نے سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے اہم اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ 14 اکتوبر کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کے درمیان مذاکرات میں منظم جرائم کے خلاف معلومات کے تبادلے کی مفاہمتی یادداشت، حوالگی کے معاہدے اور سزا یافتہ مجرموں کی منتقلی کے طریقۂ کار کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
دونوں ممالک نے پہلے سے طے شدہ (معاہدہِ دوبارہ داخلہ) پر جلد عمل درآمد، پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس اور روسی اداروں کے درمیان تعاون، سائبر کرائم کی روک تھام اور دونوں ممالک کی پولیس اکیڈمیوں کے روابط مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے ویزا طریقۂ کار آسان بنانے اور روس میں پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے مواقع پر بھی بات ہوئی۔ تاہم، ویزا قواعد میں حتمی تبدیلی یا تمام مجوزہ معاہدوں کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
علاقائی تناظر: پاکستان اور روس کے لیے افغانستان سے پیدا ہونے والے سلامتی کے خطرات مشترکہ تشویش کا موضوع ہیں۔ جون 2026 میں دونوں ممالک کے انسدادِ دہشت گردی ورکنگ گروپ نے افغانستان سے سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس اور سرحد پار خطرات پر گفتگو کی تھی۔ اس پس منظر میں معلومات کا بروقت تبادلہ، مالیاتی و ڈیجیٹل جرائم کی تحقیقات اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں ادارہ جاتی تعاون اہم ہو سکتا ہے۔
تکنیکی پہلو: مؤثر تعاون کے لیے مشترکہ معلوماتی پروٹوکول، ڈیٹا کی تصدیق، شواہد کے قانونی معیار، سائبر فرانزک صلاحیت اور حوالگی کے واضح ضابطے ضروری ہوں گے۔ مجرموں کی حوالگی اور واپسی کے معاہدوں میں انسانی حقوق، عدالتی نگرانی اور متعلقہ ملکی قوانین کی پابندی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کی علاقائی سلامتی اور روس کے ساتھ عملی تعاون کو مضبوط کر سکتی ہے۔ اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب مجوزہ معاہدے نافذ ہوں، ورکنگ گروپس ٹھوس نتائج دیں اور معلومات کا تبادلہ قابلِ پیمائش انداز میں جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو۔




