لاہور (ویب ڈیسک) عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی فارن انٹیلی جنس سروس کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے 14 اکتوبر 2026 کو کابل میں طالبان کے انٹیلی جنس چیف عبد الحق وثیق سے ملاقات کی۔ روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس نے اس دورے کی تصدیق کی، تاہم دونوں جانب سے ملاقات کے ایجنڈے یا کسی حتمی معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ بعض علاقائی ذرائع نے انٹیلی جنس تبادلے اور سکیورٹی تعاون کو ممکنہ موضوعات قرار دیا ہے، لیکن ان کی مکمل سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ رابطہ ماسکو کی طالبان حکومت کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کا حصہ ہے۔ روس نے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیا تھا۔ ماسکو کی اہم ترجیحات میں داعش خراسان (ISKP) کا خطرہ، وسطی ایشیا کا استحکام اور افغانستان میں بیرونی عسکری موجودگی کی مخالفت شامل ہیں۔ پاکستانی تناظر: اسلام آباد کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ روس کا کابل کے ساتھ سکیورٹی تعاون سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی میں مدد دے گا یا طالبان کی انٹیلی جنس اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے تک محدود رہے گا۔ پاکستان افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی سمیت مسلح گروہوں کی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتا ہے، جبکہ طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی دوران روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے اسلام آباد میں پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ یہ متوازی رابطے ماسکو کو کابل اور اسلام آباد، دونوں کے ساتھ سکیورٹی مکالمے کا موقع دیتے ہیں؛ تاہم انہیں کسی مشترکہ ثالثی منصوبے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔
تکنیکی طور پر اصل پیمانہ انٹیلی جنس کی قابلِ تصدیق شراکت، دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف عملی کارروائی، سرحدی خطرات میں کمی اور معلومات کے غلط استعمال سے تحفظ ہوگا۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روس کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی تعاون بڑھائے اور کابل سے قابلِ پیمائش اقدامات کا مطالبہ جاری رکھے۔




