طالبان نے پاکستان کو یمن کے حوثی تنازعے میں گھسیٹنے میں مدد دی ہے

طالبان پر حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملوں پر اکسانے کا الزام؛ پاکستان کے افغان سرحدی تحفظ، سعودی دفاعی معاہدے اور علاقائی سفارت کاری پر ممکنہ اثرات کا تجزیہ۔

لاہور (ویب ڈیسک) عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان انٹرنیشنل نے 18 ستمبر 2026 کو نامعلوم سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ طالبان انتظامیہ مبینہ طور پر حوثی تحریک کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ رابطوں کے ذریعے سعودی عرب پر حملوں میں شدت لانے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ مقصد پاکستان کو یمن کے تنازع میں الجھانا اور افغان سرحد پر اسلام آباد کے فوجی و سکیورٹی دباؤ کو کم کرنا ہے تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق یا طالبان اور حوثیوں کے درمیان اس مقصد کے لیے کسی ثابت شدہ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ حالیہ حملوں میں سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے ریاض کی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس معاملے کی اہمیت تین سطحوں پر ہے۔ پہلی، افغان سرحد پر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور اندرونِ ملک دہشت گردی کے خلاف فوجی توجہ برقرار رکھنا۔ دوسری، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وابستگی اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی ذمہ داریوں کا تعین۔ تیسری، ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی فریقوں کے ساتھ سفارتی توازن برقرار رکھنا۔ پاکستان نے یمن میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت بھی دہرائی ہے۔

طالبان کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں، اس حساس معاملے پر ترکی اور قطر کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام—جن میں ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن کے سربراہ ابراہیم قالن اور قطر کے ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر حمد بن خمیس الکبیسی شامل ہیں—کے کابل کے دوروں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔تکنیکی اعتبار سے پاکستان کے لیے اصل خطرہ صرف اضافی فوجی تعیناتی نہیں، بلکہ فضائی دفاعی نظام، ڈرون مخالف صلاحیت، انٹیلی جنس وسائل، رسد اور کمانڈ و کنٹرول پر بیک وقت دباؤ ہے۔ تاہم کسی ممکنہ دفاعی ردعمل کا انحصار معاہدے کی عملی شرائط، سعودی عرب کی درخواست اور تنازع کی نوعیت پر ہوگا۔

اس رپورٹ کو ثابت شدہ طالبان پالیسی کے بجائے ایک سنجیدہ مگر غیر مصدقہ سکیورٹی الزام سمجھنا چاہیے۔ پاکستان کے لیے دانش مندانہ راستہ سرحدی نگرانی مضبوط رکھنا، انٹیلی جنس کی بنیاد پر فیصلے کرنا اور یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھنا ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 356