ہرزوگ کی تقریر، سفارتی احتجاج؛ باکو اجلاس میں دس سے زائد ممالک کا واک آؤٹ
لاہور (ویب ڈیسک) عالمی میڈیا کے مطابق آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیا میں تعاون اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس کے ساتویں سربراہی اجلاس میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی تقریر شروع ہوتے ہی ترکیہ سمیت دس سے زائد ممالک کے نمائندوں نے ہال سے واک آؤٹ کیا۔ ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان اور ان کے وفد کا اجلاس چھوڑنا اس احتجاج کا نمایاں منظر تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران، پاکستان، کویت اور فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے بھی ہال سے باہر چلے گئے، جبکہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اجلاس میں موجود رہے۔ اس طرح ایک ہی فورم پر مختلف ممالک کے مختلف سفارتی رویے بھی سامنے آئے۔
یہ اجلاس علاقائی سلامتی، اقتصادی رابطوں، ڈیجیٹل تعاون اور پائیدار ترقی پر بات چیت کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ ایسے پلیٹ فارم پر اسرائیلی صدر کی موجودگی اور متعدد وفود کا احتجاج اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ غزہ اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال سفارتی تعلقات پر بدستور اثر انداز ہو رہی ہے۔
تجزیہ: واک آؤٹ ایک علامتی مگر واضح سفارتی پیغام ہے۔ اس کے ذریعے شریک ممالک نے اسرائیلی قیادت کے خطاب کے موقع پر اپنی ناراضی ظاہر کی، تاہم یہ اقدام بذاتِ خود کسی مشترکہ پالیسی، پابندی یا نئے معاہدے کا ثبوت نہیں۔ اس کی سیاسی اہمیت اس بات میں ہے کہ مختلف ممالک نے ایک بین الاقوامی فورم پر علانیہ احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔
ترکیہ کی شرکت اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ انقرہ اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتا رہا ہے۔ پاکستان اور ایران کے نمائندوں کی علیحدگی بھی فلسطین اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے سفارتی اختلافات کو نمایاں کرتی ہے۔




