بارشوں سے 108 اموات، بڑے دریاؤں میں پانی ’’محفوظ حدود‘‘ میں ہے، این ڈی ایم اے

اسلام آباد میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ بڑے دریاؤں میں پانی محفوظ حدود میں ہے، جب کہ رواں مون سون میں 108 افراد ہلاک اور 344 زخمی ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی وفاقی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح اب تک محفوظ حدود میں ہے تاہم رواں مون سون میں ملک بھر میں کم از کم 108 افراد ہلاک جبکہ 344 زخمی ہو چکے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں ہونے والے اِس اجلاس میں جاری نگرانی اور بروقت الرٹ جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مون سون بارشوں سے زیادہ تر اموات خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ہوئیں جہاں مکانات گرنے، آسمانی بجلی گرنے اور اچانک سیلابی ریلوں کے واقعات رونما ہوئے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ راوی، چناب، جہلم اور ستلُج جیسی ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بلند رہنے کے باعث پنجاب میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی صورتِحال سامنے آئی تھی۔ واضح رہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی طرف سے قومی سطح پر تیاریوں اور مربوط ردِعمل کی نگرانی کے لیے اس بار ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے ملک بھر میں حفاظتی اقدامات اور تیاریوں کا جائزہ لیا۔

این ڈی ایم اے نے اجلاس میں کہا گیا کہ مون سون کے حالیہ سلسلے کے پیشِ نظر موسمی نظام، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور خطرے سے دوچار علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ بروقت پیشگی انتباہات جاری کیے جا سکیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے فوری طور پر نبٹا جا سکے۔

کمیٹی نے صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹیوں (پی ڈی ایم ایز) اور دیگر اداروں کو امدادی سامان، ہنگامی رابطہ کاری، لوگوں کے انخلاء کے منصوبے اور اداروں کے درمیان رابطے کے معیار پر بریفنگ دینے کو بھی کہا۔ این ڈی ایم اے کے بیان کے مطابق صوبائی نمائندوں نے تمام شعبوں میں کی گئی تیاریوں اور وسائل کی دستیابی کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پیشگی الرٹ کی بروقت فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا جبکہ وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر موثر رابطہ کاری کی اہمیت اُجاگر کی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 46